جیسے ہی چینی سال گھوڑا قریب آ رہا ہے چین بھر میں اس ’خوش بخت‘ برج سے متعلق محاوروں اور نیک تمناؤں کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
گھوڑے کی رفتار، عزم اور پیش قدمی کی علامت اب چین کی جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں بھی جھلک رہی ہے جہاں جدت، تیزی اور مستقبل بینی نمایاں ہے۔
مصنوعی ذہانت میں سبقت
چینی کہاوت ’ایک گھوڑا سب سے آگے‘ قیادت اور سبقت کی علامت ہے اور یہ منظرنامہ چین کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔
چین میں اس وقت 6 ہزار سے زائد اے آئی کمپنیاں فعال ہیں جبکہ 2025 میں اس کی بنیادی اے آئی صنعت کا حجم 172 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
چین کے اوپن سورس بڑے اے آئی ماڈلز کو دنیا بھر میں 10 ارب سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے جبکہ ملک عالمی سطح پر اے آئی پیٹنٹس کا سب سے بڑا حامل ہے جو کل عالمی پیٹنٹس کا تقریباً 60 فیصد بنتے ہیں۔
چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت قائم ایک تھنک ٹینک کے مطابق سال 2026 میں چین کی اے آئی مارکیٹ میں 30 فیصد سے زائد اضافے کی توقع ہے جو اسے دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی منڈیوں میں شامل کرتی ہے۔
جنوری میں علی بابا، مون شاٹ اے آئی اور ڈیپ سیک سمیت بڑی کمپنیوں نے نئی نسل کے بڑے ماڈلز متعارف کرائے۔ اب توجہ صرف ماڈلز کے سائز پر نہیں بلکہ اے آئی ایجنٹس کی صلاحیتوں پر مرکوز ہے تاکہ مصنوعی ذہانت محض گفتگو تک محدود نہ رہے بلکہ عملی کام انجام دے سکے۔
ٹینسنٹ نے اپنے تیار کردہ ماڈلز کو 900 سے زائد داخلی منظرناموں میں نافذ کیا ہے جبکہ بائیڈو کے بانی رابن لی کا کہنا ہے کہ بنیادی ماڈلز کی تعداد محدود رہے گی لیکن ایپلیکیشنز کے میدان میں وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
ابھرتی صنعتیں پوری رفتار سے آگے
مصنوعی ذہانت کے علاوہ دیگر ابھرتی صنعتیں بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ روبوٹکس اور ’لو آلٹیٹیوڈ اکانومی‘ (کم بلندی پر مبنی فضائی معیشت) سال 2026 میں نمایاں رفتار پکڑ چکی ہیں۔
شین ژین میں قائم یو بی ٹیک نے سال 2025 کے اختتام تک اپنے صنعتی ہیومنائیڈ روبوٹ ’واکر ایس 2‘ کی ایک ہزارویں یونٹ تیار کر لی اور رواں سال 10 ہزار یونٹس بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
شنگھائی کی کمپنی ایجی بوٹ نے سنہ 2025 میں 5,100 سے زائد یونٹس کی ترسیل کی اور سنہ 2026 میں اسے دسیوں ہزار تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق روبوٹس اب صرف خطرناک یا یکساں نوعیت کے کاموں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ صنعتی، تجارتی اور گھریلو شعبوں میں بھی داخل ہوں گے۔
فضائی شعبے میں ایکس پینگ ایرو ایچ ٹی نے اپنی ماڈیولر اڑنے والی گاڑی ’لینڈ ایئرکرافٹ کیریئر‘ کو بڑے پیمانے پر پیداوار کے آخری مرحلے میں داخل کرنے کا اعلان کیا ہے اور مکمل استعداد پر ہر 30 منٹ میں ایک فلائنگ وہیکل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
خلائی میدان میں بے لگام تخلیقی پرواز
چینی محاورہ ’آسمانی گھوڑا آسمان پر دوڑتا ہے‘ لامحدود تخلیقی سوچ کی علامت ہے اور چین کا خلائی پروگرام اسی جذبے کی عکاسی کر رہا ہے۔
چین 2026 میں چانگ ای-7 مشن لانچ کرے گا جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطب کے ماحول اور پانی کی برف کے ذخائر کا جائزہ لینا ہے۔
حال ہی میں لانگ مارچ-10 راکٹ اور منگژو خلائی جہاز کے کامیاب آزمائشی پرواز ٹیسٹ کیے گئے جو سنہ 2030 سے قبل متوقع انسان بردار قمری مشن کا حصہ ہیں۔
مدار میں موجود تیان گونگ خلائی اسٹیشن اس سال شینژو-23 اور شینژو-24 کے عملے کا خیرمقدم کرے گا جبکہ ایک خلا باز ایک سال سے زائد عرصہ مدار میں قیام کرے گا۔
چین کی سائنسی و تکنیکی خود کفالت کی کوششیں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ ملک سال گھوڑا میں تیز رفتار ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے مزید برق رفتاری کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔
سال گھوڑا اور اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
سال گھوڑا چینی قمری کیلنڈر کے 12 سالہ زائچہ نظام کا ایک حصہ ہے جس میں ہر سال کو ایک مخصوص جانور سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ان 12 جانوروں میں چوہا، بیل، شیر، خرگوش، اژدھا، سانپ، گھوڑا، بکری، بندر، مرغ، کتا اور سور شامل ہیں۔ ہر 12 سال بعد گھوڑے کا سال دوبارہ آتا ہے۔ چینی ثقافت میں یہ نظام صدیوں پرانا ہے اور تہواروں، نجومی روایات اور سماجی عقائد میں اہم مقام رکھتا ہے۔ سال گھوڑا کا باقاعدہ آغاز 17 فروری 2026 کو ہوگا۔
گھوڑا چینی روایت میں رفتار، طاقت، آزادی، جرات اور مسلسل آگے بڑھنے کی علامت سمجھا جاتا ہے اس لیے سال گھوڑا کو عموماً ترقی، توانائی اور نئے مواقع کا سال قرار دیا جاتا ہے۔
روایتی عقیدے کے مطابق اس سال میں پیدا ہونے والے افراد کو پُرجوش، خوداعتماد اور قائدانہ صلاحیتوں کا حامل سمجھا جاتا ہے تاہم یہ تصورات ثقافتی روایات پر مبنی ہیں۔














