صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر ایوانِ صدر میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان صحت، طبی تعلیم اور طبی اداروں و قابلیت کی پہچان میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے حکام نے موجودہ شراکت داری کا جائزہ لیا اور مستقبل میں تعاون کے عملی اقدامات پر اتفاق کیا۔
اجلاس کی صدارت صدر کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین نے کی۔ ازبک نمائندگان میں فرسٹ ڈپٹی منسٹر آف ہیلتھ بابایف علی شیر، عبد الرور علی ژانوف، پروفیسر یوسپالیوا گل نورہ اور پروفیسر گل یاموف سورات شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان ازبکستان سے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے، صدر آصف علی زرداری
پاکستان کی جانب سے سیکرٹری برائے صدر، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر اور وزارت خارجہ و وزارت قومی صحت خدمات کے نمائندگان شریک ہوئے۔
دوطرفہ تعاون کی موجودہ صورتحال
اجلاس میں بتایا گیا کہ ازبکستان کے صدر شواکت مرزی یویو کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران 28 یادداشتوں اور تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہوئے، جن میں صحت، تعلیم اور دواسازی کے شعبے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ازبکستان میں 1,200 پاکستانی طلبہ مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور پاکستانی دواسازی کی 180 سے زائد مصنوعات وہاں رجسٹرڈ ہیں۔
مستقبل کے اقدامات اور تعاون کے امکانات
ڈاکٹر عاصم حسین نے طبی تعلیم، سائنسی تحقیق اور ڈاکٹروں کی عملی تربیت میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ازبک حکام نے اپنے صحت کے شعبے کا جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ وہاں تقریباً 9,000 پرائیویٹ کلینکس موجود ہیں اور سرجیکل کارروائیوں کا نصف حصہ پرائیویٹ اداروں میں انجام دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان ازبکستان باہمی تجارت 404 ملین ڈالر تک جا پہنچی، 2 بلین ڈالر کا ہدف
انہوں نے پاکستانی ڈاکٹروں اور متعلقہ پیشہ وران کے لیے ملازمت کے مواقع فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
اجلاس کے اختتام پر اتفاق کیا گیا کہ مشاورت جاری رکھی جائے گی اور صدر کی ہدایت کے مطابق آگے بڑھنے کے طریقے تلاش کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں پاکستانی صحت کے پیشہ وران کی ایک وفد جلد ازبکستان کا دورہ کرے گی تاکہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔














