اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 سالہ قانونی جنگ کے بعد میاں بیوی کے درمیان صلح کروا دی

جمعہ 13 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 سالہ قانونی کشمکش کے بعد میاں بیوی کے درمیان صلح کروا دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی کے کمرہ عدالت میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جنہوں نے میاں بیوی کو اکٹھے رہنے پر قائل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ صلح کے بعد دونوں فریقین نے عدالتی حکمنامے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:طلاق یافتہ والدین کے بچوں کو کن قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

عدالت نے خاوند کو ہدایت کی کہ وہ بیوی کو تاحیات الگ پورشن میں رکھے اور ان کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آئے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ عورت کو مناسب رہائش فراہم کرے اور اس کے حقوق کا خیال رکھے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ایک عورت جو اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر آتی ہے اسے محبت اور عزت ملنی چاہیے، اور مردوں کی تربیت میں کمی کی وجہ سے اکثر یہ معاملات بگڑ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلامی جمہوریہ میں طلاق کا غیر اسلامی قانون

عدالت نے بچوں کی بہبود کا بھی خیال رکھتے ہوئے چاروں بچوں سے والدین کی ملاقات کروائی اور بچوں کو روسٹرم پر بلا کر ان کے انٹرویوز بھی کیے۔

اس موقع پر بچوں نے اپنی والدہ سے اپیل کی کہ ’ماما آپ گھر آجائیں‘، جس پر عدالت میں جذباتی ماحول پیدا ہو گیا۔ بعد ازاں عدالت نے بچوں کو تحائف بھی دیے۔

سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا بچوں کا بٹوارا نہیں ہو سکتا، بچے پراپرٹی نہیں ہوتے۔یہ مرد کا ہی کام ہے کہ عورت کو منا کر رکھے۔ایک عورت جو اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر آتی ہے، اسے محبت اور احترام ملنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp