بھارتی مصنفہ اور معروف ناول نگار ارون دھتی رائے نے اسرائیل کی غزہ کے خلاف جاری جنگ سے متعلق برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی جیوری کے بیانات پر شدید احتجاج کرتے ہوئے میلے سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر میں شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں، عالمی شہرت یافتہ ادیب نے جیوری ارکان کے بیانات کو ’ناقابلِ معافی‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے کشمیر پر حقائق چھپانے کے لیے 25 کتابوں پر پابندی لگادی
اروندھتی رائے نے خاص طور پر برلنالے کی جیوری کے سربراہ اور معروف جرمن ہدایتکار وم وینڈرز کے اس بیان پر تنقید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہیے اور فلم سازوں کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔
ارون دھتی رائے نے اس مؤقف کو چونکا دینے والا قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس طرح کے بیانات دراصل انسانیت کے خلاف جاری جرم پر گفتگو کو دبانے کی کوشش ہیں۔
Arundhati Roy pulls out of the Berlin Int’l Film Festival after hearing ‘unconscionable statements’ by judges disregarding Gaza’s genocide https://t.co/ZcMKPIJG2Y
— Sarah Wilkinson (@swilkinsonbc) February 13, 2026
’یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ایک ایسے جرم پر بات چیت بند کر دی جاتی ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہو رہا ہے۔‘
شہرۂ آفاق ناول ’دی گاڈ آف اسمال تھنگس‘ سمیت متعدد ادبی اور غیر افسانوی کتب کی مصنفہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ جاری ہے وہ فلسطینی عوام کی نسل کشی ہے۔
مزید پڑھیں: جی 20 اجلاس : ایسا لگتا ہے بھارتی حکومت کے بجائے بی جے پی اس سمٹ کی میزبان ہو، ارون دھتی رائے
ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کو امریکا اور جرمنی سمیت کئی یورپی حکومتوں کی مالی اور سیاسی حمایت حاصل ہے، جس کے باعث یہ ممالک بھی اس جرم میں شریک سمجھے جائیں گے۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب فیسٹیول کے افتتاحی پینل کے دوران ایک صحافی نے جیوری ارکان سے جرمن حکومت کی غزہ سے متعلق پالیسی اور انسانی حقوق کے ’انتخابی اطلاق‘ پر سوال کیا۔
اس پر وِم وینڈرز نے مؤقف اختیار کیا کہ فلم سازوں کو سیاست سے الگ رہنا چاہیے، جبکہ پولش فلم پروڈیوسر ایوا پُشچِنشکا نے سوال کو ’کسی حد تک غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلم ساز حکومتوں کی پالیسیوں کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں دیگر جنگیں بھی جاری ہیں جن پر اس شدت سے بات نہیں کی جاتی۔
'Nearly four decades after it first aired on Doordarshan, a restored version of the film is set to receive its world premiere in the Berlinale Classics section of the 2026 Berlin Int'l Film Festival.'🤩
In Which Annie Gives It Those Oneshttps://t.co/siVGlLtmQV pic.twitter.com/HKck8MTQvg
— Ved Nayak (@catcheronthesly) February 14, 2026
اروندھتی رائے کا کہنا ہے کہ فنکاروں، ادیبوں اور فلم سازوں کو غزہ میں جاری جنگ روکنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانی چاہییں۔
وہ اس سال 12 سے 22 فروری تک جاری رہنے والے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کرنے والی تھیں، جہاں ان کی 1989 کی فلم کو کلاسکس سیکشن میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ تاہم تازہ پیش رفت کے بعد انہوں نے اپنی شرکت منسوخ کر دی ہے۔
جرمنی، جو امریکا کے بعد اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے، پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ فلسطین کے حق میں اظہارِ یکجہتی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت: عالمی شہرت یافتہ مصنفہ اروندھتی رائے کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ چلانے کی منظوری
2024 میں 500 سے زائد بین الاقوامی فنکاروں، فلم سازوں اور ادیبوں نے جرمن سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ثقافتی اداروں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔
ان کا مؤقف تھا کہ ان اداروں میں ایسی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں جو آزادیِ اظہار کو محدود کرتی ہیں اور فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔
اروندھتی رائے کی دستبرداری نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ آیا فن کو سیاست سے جدا رکھا جا سکتا ہے یا نہیں، اور کیا عالمی ثقافتی پلیٹ فارمز انسانی حقوق کے معاملات پر غیر جانب دار رہ سکتے ہیں۔














