اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ 2026 کے آغاز سے اب تک تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار افغان شہری پاکستان اور ایران سے واپس افغانستان جا چکے ہیں۔ اکتوبر 2023 سے اب تک دونوں ممالک سے مجموعی طور پر 54 لاکھ افغان وطن لوٹ چکے ہیں۔
ادارے کے مطابق بڑی تعداد میں افغان یا تو رضاکارانہ طور پر واپس جا رہے ہیں یا مشکل حالات میں واپسی پر مجبور ہیں۔ تیز رفتار واپسی نے افغانستان کو مزید بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں انسانی حقوق کی صورتحال، خصوصاً خواتین اور بچیوں کے لیے، تشویشناک ہے۔ کمزور معیشت اور قدرتی آفات نے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا میں غیرقانونی افغان مہاجرین کی حفاظت کی جا رہی ہے، وزیرداخلہ محسن نقوی
ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مہاجرین کی واپسی سے آبادی میں اضافے کے باعث 2025 میں فی کس جی ڈی پی میں 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یو این ایچ سی آر کے سروے میں انکشاف ہوا کہ نصف سے کچھ زائد افراد غیر رسمی نوعیت کا کام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ خواتین میں یہ شرح ایک چوتھائی سے بھی کم ہے۔ نصف سے زائد خاندانوں کے پاس شناختی دستاویزات نہیں اور 90 فیصد سے زیادہ روزانہ 5 ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: باعزت واپسی کا سلسلہ جاری، 16 لاکھ 96 ہزار افغان مہاجرین وطن لوٹ گئے
ادارے نے واپسی کے پائیدار نہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ افراد دوبارہ ہجرت پر غور کر رہے ہیں۔ یو این ایچ سی آر نے عالمی برادری سے اضافی امداد کی اپیل کی ہے تاکہ واپسی کرنے والوں کو رہائش، روزگار اور تحفظ فراہم کر کے باوقار زندگی کی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔














