امریکا میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر مینڈلسن کو امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے مبینہ روابط کے سلسلے میں انٹرویو دینے اور سوالات کے جواب جمع کرانے کے لیے کہا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی ہاؤس اوورسائیٹ کمیٹی کے ارکان رابرٹ گارسیا اور سُہاس سبرا منیم کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ مینڈلسن کے ایپسٹین کے ساتھ وسیع سماجی اور کاروباری روابط تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کمیٹی کے روبرو تحریری ریکارڈ کے لیے انٹرویو دینے کو خود پیش کریں۔
خط میں کہا گیا کہ کمیٹی ایپسٹین کے ممکنہ ساتھیوں اور معاونین کی شناخت اور اس کے مجرمانہ نیٹ ورک کی مکمل نوعیت کو بے نقاب کرنا چاہتی ہے، ارکانِ کانگریس کے مطابق متعدد شواہد سامنے آئے ہیں جو کئی برسوں تک مینڈلسن اور ایپسٹین کے قریبی تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
We know that former British Ambassador to the U.S., Peter Mandelson lied about his close ties to Epstein and forwarded him confidential government information. We are requesting that he comes before Congress to share what he knows and help bring closure to survivors.
Read the… pic.twitter.com/uKqm8l3j20
— Oversight Dems (@OversightDems) February 13, 2026
اگرچہ کمیٹی کے پاس مینڈلسن کو زبردستی طلب کرنے کا اختیار نہیں، تاہم اس نے ان سے تعاون کی توقع ظاہر کرتے ہوئے 27 فروری تک جواب دینے کی مہلت دی ہے۔
مینڈلسن فروری 2025 میں امریکا میں برطانیہ کے سفیر مقرر ہوئے تھے، تاہم ستمبر میں انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کا کہنا تھا کہ ایپسٹین سے ان کے تعلقات کی گہرائی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
بعد ازاں مینڈلسن نے لیبر پارٹی اور ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا۔
اس تنازع نے برطانوی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور ناقدین نے کیئر اسٹارمر کی سیاسی بصیرت پر سوال اٹھاتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے، کیونکہ امریکا میں برطانوی سفارت کاری کا عہدہ سب سے باوقار تصور کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر اہم برطانوی سیاستدان پارٹی رکنیت سے مستعفی
اگرچہ اسٹارمر فی الحال اپنے عہدے پر برقرار ہیں، لیکن بحران کی بازگشت ان کے قریبی حلقے تک پہنچ چکی ہے۔
اسکینڈل کے باعث اسٹارمر کے 3 سینیئر معاونین بھی مستعفی ہو چکے ہیں، کابینہ سیکریٹری کرس وورمالڈ نے جمعرات کو استعفیٰ دیا، جبکہ چیف آف اسٹاف مورگن میک سوینی اور کمیونیکیشن ڈائریکٹر ٹم ایلین بھی اپنے عہدوں سے الگ ہو گئے۔
دوسری جانب مینڈلسن نے ایپسٹین سے تعلقات کے حوالے سے کسی بھی مجرمانہ عمل میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، تاہم امریکی تحقیقات اور برطانیہ میں سیاسی دباؤ کے باعث یہ معاملہ بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔













