ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

ہفتہ 14 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر مینڈلسن کو امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے مبینہ روابط کے سلسلے میں انٹرویو دینے اور سوالات کے جواب جمع کرانے کے لیے کہا ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی ہاؤس اوورسائیٹ کمیٹی کے ارکان رابرٹ گارسیا اور سُہاس سبرا منیم کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ مینڈلسن کے ایپسٹین کے ساتھ وسیع سماجی اور کاروباری روابط تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو

قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کمیٹی کے روبرو تحریری ریکارڈ کے لیے انٹرویو دینے کو خود پیش کریں۔

خط میں کہا گیا کہ کمیٹی ایپسٹین کے ممکنہ ساتھیوں اور معاونین کی شناخت اور اس کے مجرمانہ نیٹ ورک کی مکمل نوعیت کو بے نقاب کرنا چاہتی ہے، ارکانِ کانگریس کے مطابق متعدد شواہد سامنے آئے ہیں جو کئی برسوں تک مینڈلسن اور ایپسٹین کے قریبی تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اگرچہ کمیٹی کے پاس مینڈلسن کو زبردستی طلب کرنے کا اختیار نہیں، تاہم اس نے ان سے تعاون کی توقع ظاہر کرتے ہوئے 27 فروری تک جواب دینے کی مہلت دی ہے۔

مینڈلسن فروری 2025 میں امریکا میں برطانیہ کے سفیر مقرر ہوئے تھے، تاہم ستمبر میں انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو

وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کا کہنا تھا کہ ایپسٹین سے ان کے تعلقات کی گہرائی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

بعد ازاں مینڈلسن نے لیبر پارٹی اور ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا۔

اس تنازع نے برطانوی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور ناقدین نے کیئر اسٹارمر کی سیاسی بصیرت پر سوال اٹھاتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے، کیونکہ امریکا میں برطانوی سفارت کاری کا عہدہ سب سے باوقار تصور کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر اہم برطانوی سیاستدان پارٹی رکنیت سے مستعفی

اگرچہ اسٹارمر فی الحال اپنے عہدے پر برقرار ہیں، لیکن بحران کی بازگشت ان کے قریبی حلقے تک پہنچ چکی ہے۔

اسکینڈل کے باعث اسٹارمر کے 3 سینیئر معاونین بھی مستعفی ہو چکے ہیں، کابینہ سیکریٹری کرس وورمالڈ نے جمعرات کو استعفیٰ دیا، جبکہ چیف آف اسٹاف مورگن میک سوینی اور کمیونیکیشن ڈائریکٹر ٹم ایلین بھی اپنے عہدوں سے الگ ہو گئے۔

دوسری جانب مینڈلسن نے ایپسٹین سے تعلقات کے حوالے سے کسی بھی مجرمانہ عمل میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، تاہم امریکی تحقیقات اور برطانیہ میں سیاسی دباؤ کے باعث یہ معاملہ بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کا چھپ کر علاج کروانا قابل قبول نہیں، علیمہ خان پھٹ پڑیں

ایران میں ڈالر کی کمی پیدا کر کے ریال کو گرا دیا گیا، امریکی وزیر خزانہ کا اعتراف

راجن پور اور کچے کے علاقے سے ڈاکوؤں کا صفایا، 500 سے زائد مجرموں نے ہتھیار ڈال دیے، مریم نواز

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟