پارلیمنٹ ہاؤس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان اور اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری نے عمارت کے تمام داخلی و خارجی راستوں کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ترجمان اسلم غوری نے احتجاج کے دوران مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معزز اراکینِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کو گھسیٹا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کرنے والوں کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، جو جمہوریت کے منافی عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی دھرنا پارلیمنٹ کے اندر منتقل، عمران خان کو اسپتال میں داخل نہ کرنے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم
ان کا کہنا تھا کہ ‘جمہوریت کے ساتھ مذاق، آئین کے ساتھ کھلواڑ اور اسلام کی مخالفت اس حکومت کے کارنامے ہیں۔’ انہوں نے گرفتار رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
ادھر مصطفیٰ نواز کھوکھر کو پارلیمنٹ کے باہر پولیس نے روک لیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور دیگر اراکین گزشتہ روز سے اندر محبوس ہیں اور وہ ان کے لیے ناشتہ لے کر آئے تھے، تاہم پولیس نے کھانے پینے کی اشیا اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے اندر نہ جانے دیں لیکن کم از کم کھانا تو جانے دیں۔’ انہوں نے پارلیمان کے دروازوں پر تالے لگانے اور ایوان کی بے توقیری پر افسوس کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کا علاج ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے ہونا چاہیے، علیمہ خان کا مطالبہ
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین خوانزادہ نے دعویٰ کیا کہ ارکان گزشتہ روز سے پارلیمنٹ کے اندر محصور ہیں اور نہ پانی اور نہ ہی ناشتہ اندر جانے دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سینیٹر فلک ناز چترالی کی طبیعت گزشتہ رات سے خراب ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان کی صحت پر تحفظات اور ان کو مناسب علاج کی فراہمی کے حق میں جمعے کو شروع ہونے والا پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمنٹ ہاؤس پر دھرنا بدستور جاری ہے جس میں اپوزیشن کی اعلیٰ قیادت بھی شریک ہے۔













