وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت ان کے لیے سیاست سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیاکہ وہ نہ تو خود عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست کریں گے اور نہ ہی کسی اور کو ایسا کرنے دیں گے۔
میرے پاکستانیوں!!!
عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے۔ اُن کی صحت پر نا میں خود سیاست کرونگا اور نا ہی کسی کو کرنے دونگا۔ پوری قوم میں عمران خان صاحب کے لیے بے انتہا محبت کی وجہ سے جو اس وقت غم اور غصہ پایا جا رہا ہے اُس کا مُجھے بخوبی احساس ہے۔ لیکن اس کو ہم نے…— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) February 14, 2026
سہیل آفریدی نے کہاکہ وہ پوری طرح واقف ہیں کہ عمران خان کی بے پناہ محبت کی وجہ سے پوری قوم میں غم اور غصہ پایا جا رہا ہے، لیکن اس صورتحال کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت میں بدلنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ مشکل اور نازک حالات میں اعصاب مضبوط رکھ کر حکمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا ضروری ہے، اور ایسے لمحوں میں پوشیدہ حکمت ہی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ عمران خان کوئی معمولی شخصیت نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے سابق اور موجودہ وزیراعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات چیئرمین ہیں۔
’ان کی صحت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ناقابل معافی فعل ہے، اور اس وقت ان کا بہترین علاج اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ علاج کے دوران آرام سے بیٹھیں گے۔‘
سہیل آفریدی نے کہاکہ اس وقت جو کارکن بغیر کسی سرکاری کال کے خود آگے آئے ہیں، وہ جہاں موجود ہیں پُرامن رہیں، اور قریبی کارکنان ان کا ساتھ دیں۔
انہوں نے انتباہ کیاکہ عمران خان کے مخالفین جنہوں نے ان پر طبی دہشتگردی کی ہے، کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور اپنے اندر موجود انتشاری عناصر کے ذریعے پُرامن احتجاج کو دوسرے رخ میں لے جا کر ہمیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔
’کارکنان کو ہدایت کی گئی کہ وہ تمام انتشاری عناصر پر نظر رکھیں اور احتجاج کو پُرامن رکھیں۔ کسی بھی منفی یا جھوٹے پروپیگنڈے پر یقین نہ کریں جب تک کہ اسے عمران خان کی فیملی یا جماعت تصدیق نہ کرے۔‘
وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ انشااللہ، عوام کے اعتماد، اتفاق، اتحاد اور حمایت سے عمران خان کا علاج جلد از جلد ان کے ذاتی معالج کی نگرانی میں اور فیملی کے اعتماد میں مکمل ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ عوام کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ علاج کے ساتھ ساتھ عمران خان کی سیکیورٹی کا بھی مکمل خیال رکھا جائے گا۔ کچھ معلومات شیئر کی جائیں گی جبکہ کچھ ابھی منظر عام پر نہیں آئیں گی۔
مزید پڑھیں: اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام
سہیل آفریدی نے بتایا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کا علاج 16 فروری تک مکمل ہونا چاہیے۔














