اسرائیل میں بڑھتے ہوئے پرتشدد جرائم نے فلسطینی نژاد شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں رواں سال اوسطاً روزانہ ایک شخص قتل ہو رہا ہے۔ یہ واقعات اب غیر معمولی نہیں رہے بلکہ ایک سنگین جرائم کی لہر کا حصہ بن چکے ہیں۔
فلسطینی شہری اسرائیل کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں، تاہم اعداد و شمار شدید عدم مساوات ظاہر کرتے ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ اور ایلاف کی رپورٹ کے مطابق عرب آبادی میں قتل کے صرف 15 فیصد کیس حل ہوئے جبکہ یہ شرح یہودی آبادی میں 65 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت
ابراہام انیشی ایٹوز کے مطابق 2023 کمیونٹی کے لیے سب سے خونریز سال رہا جس میں 252 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 2026 کے آغاز سے اب تک 46 اموات ہو چکی ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں ہزاروں فلسطینی شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور حکومت سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شمالی شہر سخنین میں ہونے والے بڑے احتجاج میں مظاہرین نے انصاف اور تحفظ کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے جرائم کے خلاف اقدامات کو قومی ترجیح قرار دیا جبکہ پولیس کمشنر ڈینیئل لیوی نے صورتحال کو ’قومی ایمرجنسی‘ کہا۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلیوں پر ایران جنگ کے راز استعمال کر کے شرطیں لگانے کا الزام
تاہم متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ بیانات کے باوجود عملی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ مقتول ڈاکٹر عبداللہ عواد کے والد کا کہنا ہے کہ اگر ان کا بیٹا یہودی ہوتا تو ملزم جلد گرفتار ہو جاتا۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق ریاستی غفلت اور امتیازی پالیسیوں نے جرائم پیشہ گروہوں کو مضبوط ہونے کا موقع دیا ہے، جس کے خلاف احتجاجی تحریک ملک گیر شکل اختیار کر چکی ہے۔











