پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس اور قومی سلیکٹر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ جاری آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ میں وہی ٹیم کامیابی حاصل کرے گی جس کے پاس معیاری اسپنرز موجود ہوں گے۔
حیدرآباد کے مقامی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے قومی ٹیم کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان ٹرافی جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ میچز میں قومی ٹیم نے ثابت کیا ہے کہ وہ متوازن کمبی نیشن کی حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بابر اعظم اور محمد رضوان کو خامیاں دور کرنے کا کہہ دیا ہے، عاقب جاوید
انہوں نے کہا کہ ‘جس ٹیم کے پاس بہترین اسپنرز ہوں گے، اس کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں’۔ ان کے مطابق سری لنکن کنڈیشنز میں معیاری آل راؤنڈرز اور اسپنرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔
15 فروری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مقابلے کے حوالے سے عاقب جاوید نے کہا کہ اس بار ‘کچھ مختلف’ ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان بہتر پوزیشن میں دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہ پاکستان کے لیے اچھا وقت ہے’۔
دیگر ٹیموں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کو معیاری اسپنرز کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہر ٹیم کی اپنی طاقت ہوتی ہے، لیکن آسٹریلیا اور انگلینڈ ان حالات میں اتنے مؤثر نظر نہیں آ رہے جتنے وہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان کو معیاری اسپنرز کا فائدہ حاصل ہے’۔
یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت کے خلاف پاکستان کی ممکنہ ٹیم کیا ہوسکتی ہے؟
عاقب جاوید نے مزید کہا کہ کسی بھی ٹیم کی ٹورنامنٹ میں پوزیشن اس کی حالیہ کارکردگی سے جڑی ہوتی ہے۔ بابر اعظم کے ٹی20 میں کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں اس فارمیٹ میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ ان کے مطابق ٹیسٹ یا ون ڈے کی کارکردگی کو اب ٹی20 کا معیار نہیں بنایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم عادتاً کسی کھلاڑی کی ستر یا سنچریوں کو گنتے ہیں، لیکن ٹی20 بدل چکا ہے۔ کبھی کبھار 9 گیندوں پر 20 رنز، 70 یا اسی رنز سے زیادہ اہم ثابت ہوتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی20 میں اب انفرادی سنگ میل کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ ‘بابر اب بھی اہم کھلاڑی ہیں، خاص طور پر سری لنکن کنڈیشنز میں، لیکن اب اصل اہمیت بروقت اور تیز رفتار کارکردگی کی ہے، نہ کہ نصف سنچری یا سنچری کی’۔













