جوہری مذاکرات کا دوسرا دور جینیوا میں، ایران نے لچک کا اشارہ دے دیا

اتوار 15 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکا پابندیاں اٹھانے پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو تو تہران جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے بعض سمجھوتوں پر غور کرنے کو تیار ہے۔

یہ بات ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت‌ روانچی نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو اتوار کو شائع ہوا۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں یا حدود سے متعلق بات چیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے بدلے میں عائد اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران یورینیم افزودگی پر مؤقف پر قائم، امریکا کا دباؤ اور عسکری پیغامات تیز

تاہم تہران بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ اس معاملے کو میزائل پروگرام سمیت دیگر امور سے منسلک کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔

مجید تخت روانچی نے تصدیق کی کہ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جینیوا میں ہوگا۔

اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں ایران اور امریکا کے درمیان عمان میں دوبارہ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مذاکرات مجموعی طور پر مثبت سمت میں گئے، تاہم حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اورجیرڈ کشنر پرمشتمل امریکی وفد منگل کی صبح ایرانی حکام سے ملاقات کرے گا، جب کہ امریکی۔ایرانی رابطوں میں عمانی نمائندے ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔

ایران کے سربراہِ جوہری توانائی نے پیر کو کہا کہ اگر تمام مالی پابندیاں ختم کر دی جائیں تو ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا،  آیت اللہ خامنائی

مجید تخت روانچی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں اسی مثال کے ذریعے ایران کی لچک کو اجاگر کیا۔

سینیئر ایرانی سفارت کار نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تہران صفر یورینیم افزودگی کی شرط قبول نہیں کرے گا۔

گزشتہ برس معاہدے کی راہ میں یہی نکتہ بڑی رکاوٹ بنا رہا تھا، کیونکہ امریکا ایران کے اندر یورینیم کی افزودگی کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی ممکنہ راہ سمجھتا ہے۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز: امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت

ایران نے ایسے کسی بھی ارادے کی تردید کی ہے۔

اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے امریکا کو الگ کر لیا تھا، جو بارک اوبامہ کی خارجہ پالیسی کی نمایاں کامیابی سمجھا جاتا تھا۔

یہ معاہدہ، جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے اس پر عائد پابندیوں میں نرمی فراہم کرتا تھا تاکہ تہران ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟