شام کی وزارتِ دفاع نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے شمال مشرقی علاقے میں واقع الشددادی فوجی اڈا امریکی افواج سے سنبھال لیا ہے۔ یہ پیش رفت چند روز قبل اردن اور عراق کی سرحد کے قریب ایک اور تنصیب کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
وزارت کے بیان کے مطابق، شامی عرب فوج کی افواج نے امریکی فریق سے ہم آہنگی کے بعد حسکہ کے دیہی علاقے میں الشددادی فوجی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
امریکی اتحاد اور داعش کے خلاف کارروائیاں
الشددادی قصبے کے باہر قائم اس اڈے پر امریکی افواج تعینات تھیں، جو شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کا حصہ تھیں۔ اسی قصبے میں ایک جیل بھی موجود تھی جہاں کرد فورسز نے جہادی تنظیم کے ارکان کو قید کر رکھا تھا، تاہم گزشتہ ماہ حکومتی افواج کی پیش قدمی کے بعد صورت حال تبدیل ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیے امریکا نے 5 ہزار سے زائد داعش جنگجوؤں کو شام سے عراق منتقل کردیا
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکا نے جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ اس کی افواج نے اردن اور عراق کی سرحد کے قریب واقع التنف اڈا بھی خالی کر دیا ہے۔
کرد فورسز اور بدلتی امریکی حکمتِ عملی
کرد قیادت میں قائم سیرین ڈیموکریٹک فورس (ایس ڈی ایف) امریکا کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی اہم شراکت دار رہی ہے اور 2019 میں شام میں داعش کی علاقائی شکست میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
تاہم دسمبر 2024 میں طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے والے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد امریکا نے دمشق کی نئی حکومت سے تعلقات میں پیش رفت کی ہے اور حال ہی میں عندیہ دیا ہے کہ کرد اتحاد کی ضرورت بڑی حد تک کم ہو چکی ہے۔
اگرچہ داعش کی علاقائی شکست ہو چکی ہے، مگر تنظیم اب بھی سرگرم ہے۔
امریکی فضائی حملے جاری
یونائیٹڈ اسٹیٹس سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ہفتے کے روز بتایا کہ اس کی افواج نے رواں ماہ شام میں داعش کے 30 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔
بیان کے مطابق، 3 سے 12 فروری کے درمیان کیے گئے فضائی حملوں میں داعش کے ’انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مقامات‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
واشنگٹن کا محتاط اطمینان
مارکو روبیو نے اتوار کو براتسلاوا کے مختصر دورے کے دوران کہا کہ امریکا شام کی صورتحال کے ’رخ‘ سے مطمئن ہے، جہاں حکومت نے کرد اقلیتی گروہوں کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔
روبیو کا کہنا تھا، ’کچھ دن ایسے بھی آئے جو تشویشناک تھے، لیکن ہمیں موجودہ سمت پسند ہے۔ ہمیں اسے اسی راستے پر برقرار رکھنا ہوگا۔ ہمارے اچھے معاہدے موجود ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے روس شام میں اپنا فوج و سیاسی اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے کوشاں، پیوٹن اور احمد الشرع کے درمیان کیا باتیں ہوئیں؟
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ شامی حکام اور کرد اقلیت کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق، حکومت کو دروز، بدوؤں اور علوی برادری سمیت شام کے متنوع معاشرتی عناصر کے ساتھ بھی ایسے ہی معاہدے کرنا ہوں گے۔
خطے میں نئی صف بندیاں
امریکی اڈوں کی واپسی اور شامی افواج کی پیش قدمی خطے میں طاقت کے توازن میں اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئی شامی حکومت داخلی مفاہمت، سلامتی اور انسدادِ دہشتگردی کی حکمتِ عملی کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے۔













