صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر تکلیفیں برداشت نہیں کرسکتے تو سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
وہاڑی میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم نے حکومت ایک سوچ اور وژن کے تحت بنائی، اور ہم نے مریم بی بی اور شہباز شریف کو بھی ووٹ دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک کو آگے لے جانا ہے اور صدر کی سیٹ کے لیے بھی ووٹ مانگا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: صدر زرداری ایک بار پھر متحرک، حکومت اور عمران خان کے خلاف سخت زبان استعمال کیوں کی؟
انہوں نے اپنے تجربے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 14 سال جیل میں گزارے، اور جب باہر آئے تو ان کے بچے ان سے قد میں بڑے ہوچکے تھے، انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف بھاشن دینے کی عادت تھی، جب جیل نہیں کاٹ سکتے تو کوئی ایک آسان شعبہ اپناتے اور کرکٹ کلب بناتے، سیاست کرنی ہے تو ہر شعبے میں شامل ہونا پڑتا ہے۔
صدر زرداری نے موجودہ اور سابقہ حکومتوں پر بھی کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 4 سال بانی یا دیگر قیادت کی نہیں، بلکہ فیض حمید کی حکومت تھی جسے عوامی مسائل کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت اور دیگر ادارے صرف بیان بازی کرتے رہے، ملک کا کام نہیں ہوا، اور عوام کی مشکلات برقرار رہیں۔
صدر نے کہا کہ زراعت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے اور وہ خود سات پشتوں سے زمیندار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے دور میں سندھ میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ زرعی زمین آباد کی اور گندم کی قیمتوں پر لیول پلیئنگ فیلڈ قائم کی۔
یہ بھی پڑھیے: ایک بیوقوف آدمی نے ساری دنیا سے تعلقات خراب کردیے تھے، آصف زرداری کی عمران خان پر تنقید
انہوں نے پنجاب کے پانی کے استعمال پر بھی زور دیا اور کہا کہ سندھو دریا ہزاروں سال سے بہ رہا ہے، اور وہ پنجاب کو 30 سال سے کہہ رہے ہیں کہ راوی سے اپنا پانی نکالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کا مؤثر استعمال ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
صدر زرداری نے بتایا کہ سندھ میں خواتین کو زمین اور گھروں کے مالکانہ حقوق دیے جا رہے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ کارڈ کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ وہ اپنے خاندان اور مالی معاملات میں خودمختار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام میں سندھ سب سے آگے تھا، اور سندھ اسمبلی نے پاکستان بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ زرداری نے بتایا کہ سندھ میں ڈاکو راج ختم کیا گیا اور پولیس کی کوششوں سے پنجاب تک امن قائم کیا گیا۔ کراچی میں سب سے بڑے مسائل آلودگی، پانی اور خراب سڑکوں کے ہیں جن پر کام جاری ہے۔
صدر نے کہا کہ پاکستان دنیا میں کاربن کریڈٹس فروخت کر رہا ہے اور یہ پروجیکٹ دس سال سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کام سوچ سمجھ کر اور منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔












