وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے ساتھ ڈھاکا میں ملاقات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔
احسن اقبال ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیرِ اعظم طارق الرحمن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر، پروفیسر محمد یونس سے بھی ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیے: احسن اقبال نو منتخب وزیراعظم کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش پہنچ گئے
ملاقات کے دوران انہوں نے پروفیسر یونس اور بنگلہ دیش کے عوام کو حالیہ انتخابات کی کامیاب تکمیل اور تاریخی جمہوری عبوری حکومت پر مبارکباد پیش کی اور نئے قیادت کے تحت بنگلہ دیش میں استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان بنگلہ دیش تعلقات میں نئے، مثبت باب کے آغاز پر تبادلہ خیال کیا۔ وفاقی وزیر نے دوطرفہ تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت کی تعریف کی، جس میں تجارتی روابط میں اضافہ، براہِ راست فضائی رابطے کی بحالی اور عوامی رابطوں کی تجدید شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی اور جغرافیائی سیاسی حالات میں اقتصادی تعاون، کنیکٹیویٹی اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر پروفیسر یونس کی عالمی سطح پر سماجی کاروبار اور جامع ترقی میں نمایاں خدمات کو بھی سراہا اور انہیں پاکستان دعوت دی گئی تاکہ مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں نئے اراکین پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا
احسن اقبال نے چیف ایڈوائزر کو پاکستان بنگلہ دیش نالج کوریڈور منصوبے کے تحت علامہ اقبال اسکالرشپس کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ بنگلہ دیش کے طلبا کا پہلا بیچ پاکستان کی ممتاز جامعات میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر چکا ہے۔ نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور تعلیمی شراکت داریوں کو فروغ دینے سے دیرپا اعتماد اور طویل مدتی تعاون کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
ایکس اکاؤنٹ پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے ثقافتی، تاریخی اور سماجی روابط ہیں۔ اب وقت ہے کہ ان روابط کو منظم اقتصادی شراکت داریوں، تعلیمی تبادلوں اور علاقائی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔ دونوں ممالک کا مستقبل مربوط تجارت، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور جنوبی ایشیا میں مستحکم اور خوشحال ماحول قائم کرنے میں ہے۔












