سینٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کی آج سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا امکان ہے۔
تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے ملاقات کی یقین دہانی کروا دی گئی ہے، جس کے بعد پارٹی قیادت پارلیمنٹ ہاؤس سے اڈیالہ جیل کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کو جیل میں کیا سہولیات میسر ہیں؟ تفصیلات پہلی بار منظرعام پر آگئیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں زیر حراست ہیں، اور سیاسی حلقوں کی نظریں اس ممکنہ ملاقات پر مرکوز ہیں، جس سے آئندہ سیاسی منظرنامے پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
کیا محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کے لیے کوشش کی؟ پارٹی قیادت کو بانی پی ٹی آئی کی صحت پر توجہ دینی چاہیے، بیرسٹر گوہر
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل میں ملاقاتوں کا آج مقررہ دن ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں نہ ہونے سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ عدالتوں کے احکامات، جیل رولز اور طے شدہ ایس او پیز کے مطابق ملاقات کرانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اگر باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتیں تو بانی پی ٹی آئی کی صحت، علاج اور تجویز کردہ ٹریٹمنٹ سے متعلق بروقت آگاہی ملتی اور ابہام پیدا نہ ہوتا۔
یہ بھی پڑھیے: مشکلیں برداشت نہیں کرسکتے تھے تو کرکٹ کلب بنا لیتے، صدر زرداری کا عمران خان پر طنز
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جیل میں قید شخص کی صحت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ انہیں فیملی اور وکلا تک رسائی دی جائے۔ ملاقاتوں میں رکاوٹ کو انہوں نے غیر انسانی رویہ قرار دیا اور کہا کہ بچوں اور اہل خانہ سے رابطہ نہ ہونے سے بے چینی بڑھتی ہے۔
عمران خان کی صحت اور ان سے ملاقات بارے بیرسٹر گوہر خان کا بڑا اعلان؟@AmirSaeedAbbasi @alihamzaisb @PTIofficial @PTIOfficialISB pic.twitter.com/AEYeAnaOKI
— Media Talk (@mediatalk922) February 17, 2026
وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ کوششوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ جو بھی مثبت کردار ادا کرے، اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ تاہم اس وقت پارٹی قیادت کو بانی پی ٹی آئی کی صحت، قانونی معاملات اور رہائی پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہیے جنہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملاقاتوں کا سلسلہ معمول کے مطابق بحال ہو جائے تو کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے اور غیر ضروری احتجاجی صورتحال سے بھی بچا جا سکتا ہے۔













