خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 4 روز سے لوگ پریشان ہیں، مریض ایمبولینسوں میں دم توڑ رہے ہیں اور حکومت کوئی مؤثر اقدام نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا کیا قصور ہے جنہوں نے پی ٹی آئی کو تیسری مرتبہ ووٹ دیا، مگر آج وہی عوام اذیت میں مبتلا ہیں جبکہ قیادت اسلام آباد میں مصروف ہے اور عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں۔
امن و امان اور دہشتگردی کی صورتحال
ڈاکٹر عباداللہ خان نے کہا کہ ایک طرف پولیس دہشتگردوں سے لڑ رہی ہے اور جانی نقصان ہو رہا ہے، دوسری جانب صوبے میں دھماکوں اور حملوں کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے کرم، وزیرستان، بنوں اور باجوڑ میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات پر کوئی جواب دہی نظر نہیں آتی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے، مگر حکومتی ترجیحات واضح نہیں اور حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔
کاروبار اور مہنگائی پر اثرات
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سڑکوں کی بندش سے صوبے کی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے جبکہ رمضان قریب ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جس سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
عدالتی مداخلت اور امید
انہوں نے کہا کہ اسی صورتحال کے باعث انہیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا اور وہ پشاور ہائیکورٹ کے شکر گزار ہیں جس نے اس معاملے پر نوٹس لیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسئلے کا حل آج نکل آئے گا، بصورت دیگر عوام میں بے چینی مزید بڑھے گی۔
عوامی ردعمل کا خدشہ
ڈاکٹر عباداللہ خان نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو عوام خود سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایبٹ آباد میں مقامی لوگوں نے خود سڑکیں کھولنے کی کوشش کی اور حالات تصادم کی طرف جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قیادت کی عدم موجودگی اور واضح حکمت عملی نہ ہونے سے معاملات غلط سمت میں جا رہے ہیں، جو صوبے اور ملک دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔














