پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے کہا ہے کہ آخری ملاقات کے دوران عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے۔
اپنی بہنوں علیمہ خان اور نورین خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ صبح انہیں کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ اگر چاہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان نے کہہ کر بھیجا ہے بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، علیمہ خان
ان کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ وہ کسی سرکاری نمائندے پر اعتماد نہیں کریں گے اور ذاتی معالج کو بھیجنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے ڈاکٹر برکی اور بعد ازاں ڈاکٹر عاصم کا نام تجویز کیا، تاہم اجازت نہیں دی گئی۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کا کہنا تھا کہ وہ صرف ایسے ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں جس پر انہیں اعتماد ہو۔ انہوں نے سرکاری طور پر جاری ہونے والی طبی رپورٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ محض کلینیکل معائنے تک محدود ہے اور اس میں کسی تشخیصی (ڈائیگنوسٹک) عمل یا علاج کے منصوبے کی تفصیل شامل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے ڈاکٹروں کے پیغامات موصول ہوئے جن میں رپورٹ کے مندرجات پر سوالات اٹھائے گئے۔ ان کے بقول، اگر کوئی انجکشن دیا گیا ہے تو اس کے اثرات کی مانیٹرنگ ضروری ہوتی ہے، اور ایک انجکشن سے فوری طور پر بینائی کی بحالی کا دعویٰ ناقابلِ فہم ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صورتحال ویسی ہی ہے جیسا بتایا جا رہا ہے تو ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے مزید کہاکہ انہیں سرکاری مؤقف پر یقین نہیں اور ان کے خدشات برقرار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر کسی قسم کا نقصان پہنچایا گیا تو وہ بھرپور ردعمل دیں گے اور عوام کے سامنے آئیں گے۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا، علاج کی ہر سہولت دی جا رہی ہے، محسن نقوی
اس موقع پر علیمہ خان نے کہاکہ عمران خان نے پیغام بھیجا ہے کہ بہنوں سے کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، کیوں کہ میری آنکھ ٹھیک نہیں۔











