سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی عمران خان کی رہائی چاہتے تھے، ہم نومبر 2024 میں عمران خان کا سنگجانی پر رکنے کا حکم نہ مان کر تباہ ہوگئے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان سے فائنل ملاقات میں میرے ساتھ بیرسٹر گوہر بھی تھے، میں نے جب ان سے بات کی تو انہوں نے کہاکہ میں پاکستان کی خاطر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہوں۔
مزید پڑھیں: عمران خان نے کہہ کر بھیجا ہے بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، علیمہ خان
انہوں نے کہاکہ 25 نومبر کو بیرسٹر گوہر کی عمران خان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ سنگجانی پر رک جائیں، لیکن ہم نے حکم عدولی کی اور وہیں سے تباہی کا آغاز ہوا۔
علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیاکہ اس وقت مجھ سے کہا گیا تھا تم بھی تھک رہے ہو ہم بھی تھک رہے ہیں چلو بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ 5 اکتوبر کے احتجاج کے بعد عمران خان کی شرائط پر مذاکرات ہوئے، اور ٹی او آرز تک بن چکے تھے۔ ’مریم وٹو کو کچھ پتا نہیں، میں نے ان کے بیان پر بشریٰ بی بی سے پوچھا تو بی بی نے کہا، اسے دفع کرو، یہ اس کی اوقات ہے۔‘
علی امین گنڈاپور نے کہاکہ پارٹی میں کچھ گروپس ایک دوسرے پر تنقید اور بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، اور ایک ایجنڈے کے تحت مہم چلائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ مذاکرات کے حوالے سے محسن نقوی کی بھرپور کوشش تھی کہ عمران خان کی رہائی ہو، 5 اکتوبر کو ہم رکاوٹیں ہٹا کر ڈی چوک پہنچ گئے تھے، پھر پریشر بنا اور حکومت ہل گئی۔
علی امین گنڈاپور نے کہاکہ عمران خان نے مذاکرات کے لیے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مینڈیٹ دیا ہے، تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کے ساتھ ہوں اللہ کرے ان کی وجہ سے عمران خان کی رہائی ہو جائے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سلمان اکرم راجا کون ہوتا ہے مجھ سے حساب لینے والا۔ ’پہلے میری قربانیوں کا حساب کریں پھر میرے بیان پر حساب لیں۔‘
علی امین گنڈاپور نے کہاکہ جب بھی بات کی عمران خان کے لیے کی اور آئندہ بھی اگر کروں گا تو عمران خان کے لیے ہی کروں گا، میرا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں۔
مزید پڑھیں: تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے محسن نقوی کی پریس کانفرنس کو گمراہ کن قرار دیدیا، حکومت سے 4 اہم مطالبات
انہوں نے مزید کہاکہ ایک وقت تھا جب ہم عمران خان کی رہائی کے لیے بڑے بڑے جلسے کررہے تھے، میں نے جب احتجاج کیے مخالفین میں سے کوئی بھی نہیں آیا۔ مجھے کسی سے گلہ نہیں، نہ کسی سے سوال کرنا چاہتا ہوں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ عمران خان کو باہر آنے دیں پھر میں بتاؤں گا میری کتنی اوقات ہے اور علیمہ خان کی کتنی، میں نے بہنوں کے سامنے ترلہ کیاکہ عمران خان کو باہر آنے دیں۔











