عمران خان کے لیے احتجاج، علی امین بھی اچانک مرکزی قیادت کے ساتھ بیٹھ گئے، کیا اختلافات ختم ہوگئے؟

بدھ 18 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج میں پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ ناراض رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی منظرِ عام پر آ گئے۔

سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور جو وزارتِ اعلیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد پشاور سے اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان چلے گئے تھے، وہاں سے بہت کم ہی نکلتے تھے اور پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی اور دیگر اجلاسوں میں بھی غیر حاضر رہتے تھے۔

مزید پڑھیں: عمران خان نے کہہ کر بھیجا ہے بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، علیمہ خان

باخبر ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور قیادت سے ناراض تھے اور اسی وجہ سے پارٹی اجلاسوں اور میٹنگز میں شرکت نہیں کرتے تھے۔

’علی امین گنڈاپور کی دھرنے میں شرکت، اراکین کے لیے کھانے کا انتظام‘

علی امین گنڈاپور کے ترجمان کے مطابق سابق وزیراعلیٰ دھرنے کے اعلان کے فوراً بعد ڈی آئی خان سے اسلام آباد پہنچے اور دھرنے میں شرکت کی۔

ان کے مطابق علی امین دھرنے میں موجود ہیں، پہلے روز دھرنے میں بیٹھے، منتخب اراکین اور قائدین کے لیے کھانے کا بھی انتظام کیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ علی امین عمران خان کے فرنٹ کے سپاہی ہیں اور عمران خان کے لیے وہ ہر وقت فرنٹ پر موجود ہیں۔

’علی امین گنڈاپور کی پارٹی قیادت پر تنقید‘

اسلام آباد میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین نے پارٹی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مؤقف اختیار کیاکہ ان سمیت پوری قیادت عمران خان کے جیل میں ہونے کی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ عمران خان کو غلط معلومات دی جا رہی ہیں۔ علی امین نے واضح طور پر کہاکہ احتجاج اور دھرنوں سے عمران خان باہر نہیں آئیں گے۔

کیا علی امین گنڈاپور کی ناراضی ختم ہوگئی؟

علی امین گنڈاپور کی جانب سے اچانک اسلام آباد دھرنے میں شرکت اور پارٹی میں مخالف گروپ کے ساتھ بیٹھنے کے بعد ان کی پارٹی سے علیحدگی اور ناراضی کی خبریں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔

پارٹی کے ایک باخبر رہنما کے مطابق علی امین گنڈاپور اب بھی سخت ناراض ہیں۔ ان کے مطابق علی امین کا خیال ہے کہ ان کے دور میں عمران خان کی رہائی ممکن ہو رہی تھی، لیکن انہیں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، جس کے باعث عمران خان کی رہائی بھی کھٹائی میں پڑ گئی۔

انہوں نے بتایا کہ علی امین وزیراعلیٰ ہاؤس سے واپس ڈی آئی خان منتقل ہوئے اور اس دوران اپنے آبائی علاقے سے بہت کم باہر نکلے، لیکن اسلام آباد دھرنے کے لیے اچانک پہنچ گئے، جو پارٹی قیادت کے لیے حیران کن تھا۔

ان کے مطابق اس وقت پارٹی اور صوبائی حکومت مخالف گروپ کے پاس ہے اور علی امین گروپ کا اثرورسوخ بہت کم ہو چکا ہے، جس کا انہیں بھی بخوبی اندازہ ہے۔ تاہم پارٹی اور کارکنان میں خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لیے شدید مخالفت اور ناراضی کے باوجود وہ مخالف گروپ کے ساتھ بیٹھ گئے۔

انہوں نے مزید کہاکہ علی امین کے ساتھ بیرسٹر گوہر تو ہیں، لیکن اس وقت ان کی بات کو بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی جا رہی۔

’جہاں تک مجھے علم یا اندازہ ہے، علی امین کو کسی نے منایا نہیں بلکہ انہوں نے خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ اس وقت پارٹی قیادت اور کارکنان سب کی نظریں ان پر ہیں۔‘

’علی امین ناراض تھے ہی نہیں، پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی میں گروپنگ، اختلافات اور علی امین گنڈاپور کی ناراضی کی تردید کی ہے۔

ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ کے مطابق علی امین ناراض نہیں تھے بلکہ اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں گراس روٹ لیول پر کارکنوں کو فعال کرنے میں مصروف تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں عمران خان کا فیصلہ سب کو قبول ہوتا ہے اور علی امین نے عمران خان کی ہدایت پر ایک منٹ سوچے بغیر وزیراعلیٰ کے منصب سے استعفیٰ دیا۔

ان کے مطابق علی امین گنڈاپور کی محنت کے باعث آج ڈی آئی خان میں تین مقامات پر دھرنے ہو رہے ہیں۔

’علی امین پارٹی میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس لینے کی کوشش میں ہیں‘

شہاب الرحمان نوجان، جو ایک صحافی ہیں اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں، کے مطابق علی امین اپنے آبائی ضلع میں پارٹی کے بجائے ذاتی اثرورسوخ بڑھانے میں مصروف نظر آ رہے تھے۔

’علی امین کو اندازہ ہوگیا ہے کہ پارٹی میں ان کی اہمیت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے، جس سے بچنے کے لیے ان کا اپنا ذاتی ووٹ بینک ہونا ضروری ہے۔‘

ان کے مطابق علی امین پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہے، لیکن پارٹی قیادت اور عمران خان کی بہنوں سے سخت ناراض ہیں۔ شہاب کے مطابق علی امین عمران خان کی بہنوں کو ہی ان کی رہائی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں اور خود کو وزارت اعلیٰ سے ہٹانے میں بھی بہنوں کے کردار کا الزام لگاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: محسن نقوی عمران خان کی رہائی چاہتے تھے، بانی کا سنگجانی پر رکنے کا حکم نہ مان کر ہم تباہ ہوگئے، علی امین گنڈاپور

ان کا کہنا تھا کہ ناراضی اپنی جگہ، لیکن علی امین اس وقت کارکنوں کے دلوں میں اپنے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ آج بھی عمران خان کے وفادار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp