وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے تمیر کے بنیادی مرکزِ صحت کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرتے ہوئے جدید ٹیلی میڈیسن سینٹر کا افتتاح کر دیا ہے۔
اس سہولت کے بعد دیہی اور دور دراز علاقوں کے شہری اب گھر بیٹھے ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن معائنہ، مشاورت اور علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہوتی ہیں، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
اس اقدام سے اسلام آباد کی دیہی آبادی کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ بنیادی مراکزِ صحت کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام سے بڑے سرکاری اسپتالوں پر مریضوں کا بڑھتا ہوا دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی، کیونکہ ابتدائی تشخیص اور مشاورت مقامی سطح پر ہی ممکن ہو سکے گی۔

وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ ٹیلی میڈیسن صحت کے شعبے میں ایک ’خاموش انقلاب‘ ثابت ہوگی۔
جدید ٹیکنالوجی نے فاصلے کی رکاوٹ ختم کر دی ہے اور اب مریض اپنے علاقے میں رہتے ہوئے ملک اور بیرونِ ملک موجود ماہر ڈاکٹروں سے رجوع کر سکیں گے۔
مزید پڑھیں: عوام کو دہلیز پر بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مصطفیٰ کمال کا بڑا اعلان
نئے نظام کے تحت ڈاکٹروں اور مریضوں دونوں کی مؤثر مانیٹرنگ کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ علاج کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
مزید برآں، تجویز کردہ ادویات مریضوں کی دہلیز تک پہنچانے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس سے خاص طور پر بزرگ اور کمزور مریضوں کو فائدہ ہوگا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد غریب اور کم وسائل رکھنے والے طبقات کے لیے صحت کی سہولیات کو سستا، آسان اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔
ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم نوجوان ڈاکٹروں کو بھی خدمات انجام دینے کے وسیع مواقع فراہم کرے گا، جبکہ آئندہ مرحلے میں اس نظام کو ملک بھر میں توسیع دے کر ہر شہری تک معیاری صحت کی سہولت پہنچانے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔













