پاکستان تحریکِ انصاف اور حکومت کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز تو نہیں ہوا، تاہم وزیراعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کی ملاقات کی خبریں سامنے آ رہی تھیں، یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں کا رکا ہوا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
تاہم عمران خان کی آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کی خبروں کے بعد پی ٹی آئی کے اراکینِ پارلیمنٹ نے 5 روز تک دھرنا دیا، جبکہ کارکنان نے موٹروے اور جی ٹی روڈ پر بھی احتجاج جاری رکھا، اس کے باوجود نہ تو عمران خان سے ملاقات ہو سکی اور نہ ہی انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ‘منظم عوامی جدوجہد ناگریز ہوچکی ہے،’ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا عمران خان رہائی فورس بنانے کا اعلان
اب پی ٹی آئی نے دھرنا ختم کر دیا ہے اور ’فری عمران خان فورس‘ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، اس معاملے پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہرعلی خان، جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ اور سینیئر رہنما علی محمد خان نے وی نیوز سے گفتگو کی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بینائی متاثر ہونے پر پارٹی شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

’پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ان کے ذاتی معالج، پارٹی کے ڈاکٹرز اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں ان کا مکمل طبی معائنہ اور نگرانی ہو سکے۔‘
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی اور ملاقاتوں کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی، البتہ بعض نمائندگان کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات ضرور جاری رہے، جن میں کچھ افراد نے مثبت کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق خبروں پر پی ٹی آئی کا اظہار تشویش
بیرسٹر گوہر کے مطابق پی ٹی آئی آئندہ بھی قانونی اور سیاسی فورمز پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور عمران خان کے حقوق کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا ہی کئی مسائل کی جڑ ہے۔ ’اگر باقاعدہ ملاقاتیں ہوتیں تو پارٹی قیادت کو اصل صورتحال کا علم ہوتا اور غیر ضروری افواہوں کا خاتمہ ممکن ہوتا۔‘
مزید پڑھیں: عمران خان کو جیل میں فی الحال کسی تشویشناک صورتحال کا سامنا نہیں، طبی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری
پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان کی رہائی یا ان سے ملاقات کی تحریک کوئی ایک دن یا وقتی کامیابی کی جدوجہد نہیں بلکہ ایک طویل تحریک ہے۔
ان کے مطابق عمران خان کی قید اور صحت کے معاملات پر پورا ملک اضطراب کا شکار ہے اور گزشتہ چند دنوں میں ہونے والے احتجاج کا اثر عالمی سطح تک گیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے دھرنوں اور احتجاج کے نتیجے میں بین الاقوامی تنظیموں، سفارت کاروں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں تک عمران خان کی صحت سے متعلق پیغام پہنچا۔

ان کے بقول کرکٹ کی دنیا میں بھی اس معاملے پر ہلچل محسوس کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان اب بھی عالمی سطح پر ایک نمایاں شخصیت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کی تحریک کسی صورت پیچھے ہٹنے والی نہیں اور پارٹی کارکنان، بالخصوص خواتین، جس خلوص اور جذبے کے ساتھ میدان میں موجود ہیں، وہ اس جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف درحقیقت مذاکرات نہیں چاہتی، حالانکہ حکومت مفاہمت اور بات چیت کے لیے تیار تھی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں واضح بہتری، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری
ان کے مطابق حکومت کی خواہش تھی کہ پی ٹی آئی کو سیاسی دھارے میں رکھا جائے اور معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں، کیونکہ پی ٹی آئی کا ملک میں ووٹ بینک موجود ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ عمران خان جس ڈیل کی امید لگائے بیٹھے ہیں وہ ممکن نہیں اور جب تک قومی مفاد کو ذاتی سیاست پر ترجیح نہیں دی جاتی، کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ سیاست کسی نظریے یا عوامی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ ایک محدود اور ذاتی ایجنڈے کے گرد گھوم رہی ہے، جس کا واحد مقصد عمران خان کی رہائی اور دوبارہ اقتدار میں واپسی ہے۔
ان کے مطابق جب کسی جماعت کا ایجنڈا اتنا محدود ہو جائے تو اس کی سیاست دیرپا نہیں رہتی۔
’پی ٹی آئی کی سیاست مسلسل محاذ آرائی پر مبنی رہی ہے اور مستقبل میں بھی کسی مثبت نتیجے کی امید کم نظر آتی ہے۔‘
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علی محمد خان نے اعتراف کیا کہ ایک موقع ایسا ضرور تھا جب کم از کم عمران خان سے ملاقات یا کسی حد تک بات چیت کا راستہ بن رہا تھا، جو بند نہیں ہونا چاہیے تھا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ سیاست امکانات کا کھیل ہے اور ناممکن کو ممکن بنانا ہی اصل سیاست ہے۔
ان کے مطابق اب بھی امید باقی ہے، سمجھدار لوگ موجود ہیں اور اگر نیت ہو تو راستہ نکل سکتا ہے۔
علی محمد خان نے کہا کہ پارٹی آج بھی سپریم کورٹ میں موجود ہے اور عدالتی عمل پر یقین رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں: ہمارا مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے علاج نہیں، علیمہ خان
ان کے مطابق سپریم کورٹ کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ آئینی اور قانونی تقاضوں کے تحت فیصلے کرتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عمران خان نے پارٹی قیادت، خواہ وہ چیئرمین ہو، جنرل سیکریٹری یا اپوزیشن لیڈر، پر اعتماد کیا ہے تو کارکنان اور عوام کو بھی اسی اعتماد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق اس وقت سب سے اہم چیز عمران خان کی خیریت اور صحت ہے، اور قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اس حوالے سے درست معلومات عوام تک پہنچائی جائیں۔
تاہم مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے متعدد مواقع ضائع کیے ہیں اور بار بار ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جن کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی مشکل تر ہوتی گئی ہے۔
بظاہر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اور بالخصوص عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی جانب سے ایسی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے جس سے لگتا ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی نہیں چاہتے بلکہ ان کے نام پر ہمدردیاں سمیٹنا چاہتے ہیں۔
کچھ حلقوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ جب بھی عمران خان کی رہائی کے لیے بات چیت کا امکان پیدا ہوتا ہے علیمہ خان کی جانب سے کوئی ایسا بیان یا اعلان سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے بات چیت کے لیے حالات سازگار ہونے کی بجائے عمران خان کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔











