بھارت میں منعقد ہونے والی قومی مصنوعی ذہانت کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے ایک روبوٹک کتے کے مظاہرے نے شدید تنازع کھڑا کر دیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ویب سمٹ میں چینی روبوٹ نے دھوم مچا دی
دہلی میں منعقد ہونے والے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران گالگوتیاس یونیورسٹی کے نمائندوں نے چار ٹانگوں والے روبوٹک کتے کو اپنے مصنوعی ذہانت ماحولیاتی نظام کا حصہ قرار دیتے ہوئے پیش کیا۔ اس موقع پر پروفیسر نیہا سنگھ نے روبوٹ کی ممکنہ افادیت پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسے نگرانی اور کیمپس سے متعلق مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
View this post on Instagram
تاہم، ویڈیو منظرعام پر آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے روبوٹ کو چینی کمپنی یونٹری روبوٹکس کے تیار کردہ یونٹری گو ٹو ماڈل کے طور پر شناخت کر لیا۔ صارفین نے یونیورسٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک تجارتی طور پر دستیاب مصنوعات کو اپنی ایجاد ظاہر کر رہی ہے۔
View this post on Instagram
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹ عالمی سطح پر فروخت ہونے والی عام مصنوعات ہے اور اسے اس کانفرنس میں ظاہر کیے گئے اربوں روپے کے مصنوعی ذہانت منصوبے سے جوڑنا گمراہ کن ہے۔ بعض سیاسی حلقوں نے بھی اس واقعے کو بھارت کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں روبوٹس کے گانے، رقص اور دیگر مہارتوں نے نئے سال کی تقریب کو چار چاند لگادیے
شدید تنقید کے بعد گالگوتیاس یونیورسٹی نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ روبوٹ ان کی اپنی ایجاد ہے، اور نہ ہی کسی قسم کی سرقہ کاری کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قومی اور عالمی سطح کے ٹیکنالوجی فورمز پر شفافیت انتہائی ضروری ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت ایک اسٹریٹجک شعبہ بنتا جا رہا ہے اور اس سے متعلق دعوؤں کی جانچ پڑتال آئندہ مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔











