تجربے کی بنیاد پر بتا رہا ہوں درجہ حرارت 1000 ڈگری سے زیادہ تھا، چیف فائر فائٹر کا گل پلازا کمیشن کے سامنے بیان

بدھ 18 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں سانحہ گل پلازا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا، ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے کمیشن کو بتایا کہ ہمیں رات 10:35 پر گل پلازا میں آگ کی اطلاع ملی، 10 بج کر 52 منٹ پر فائر بریگیڈ پہنچ گئی تھی۔ ہم نے سیڑھی کے ذریعے آگ بجھانا شروع کی جس کی ویڈیو موجود ہے، اس کے بعد کے ایم سی کی فائربریگیڈ گاڑیاں اور اسنارکل پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت میں اہم پیشرفت، گواہوں کے بیانات قلمبند

ڈی جی ریسکیو نے بتایا کہ کے الیکٹرک کو بھی بجلی منقطع کرنے کا کہا تھا، میں بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شامل نہیں تھا، ہم جس وقت پہنچے گراؤنڈ پر آگ لگی ہوئی تھی، دوسری اور تیسری منزل والوں کو بچانے کی کوشش شروع کی، گراؤنڈ سے اندر جانے کا راستہ نہیں تھا۔ میزنائن فلور سے بھی داخلی راستہ نہیں تھا۔

ڈی جی ریسکیو 1122 نے بتایا کہ ہمارے پاس آلات تھے، کھڑکیاں بند اور کچھ پر لوہے کی گرل تھیں، گراؤنڈ فلور سے میزنائن اور فرسٹ فلور والے سمجھ رہے تھے آگ بجھ جائے گی تو نکل جائیں گے، دکان دار سامان نکال رہے تھے، اے سی ڈک سے آگ میزنائن اور فرسٹ فلور پر پہنچی، گل پلازا کے اندر قدرتی روشنی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔

ڈی جی ریسکیو 1122 کا مزید کہنا تھا کہ دھواں اتنا زیادہ تھا کہ موبائل فون کی ٹارچ سے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا، تنگ راستے کی وجہ سے لوگ پھنس گئے تھے۔

چیف فائر افسر کے ایم سی ہمایوں خان نے کمیشن کو بتایا کہ ہمیں 10 بج کر 26 منٹ پر اطلاع ملی، 15 فائر ٹینڈر، 2 اسنارکل اور 3 باوزر موقع پر روانہ ہوئے، ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا، فائر ٹینڈر پر سیڑھیاں لگا کر لوگوں کو ریسکیو کیا، کھڑکیاں کاٹ کر 5 یا 6 افراد کی لاشیں نکالیں، پہلی اور دوسری منزل کی گرل کاٹیں۔

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی کیس: جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم

چیف فائر افسر کے ایم سی کا کہنا تھا کہ پہلی اور دوسری منزل کی سیڑھیاں بند تھیں، سنارکی دکان سے کروڑوں کا سونا بھی برآمد کیا، صبح عمارت میں داخل ہونے پر عمارت گرگئی، فائر فائٹر شہید ہوا، لائٹ بند نہ ہوتی یا ایمرجنسی لائٹس ہوتیں تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔

چیف فائر افسر نے مزید بتایا کہ ہمارے پاس ساری گاڑیاں مکمل فعال حالت میں ہیں، کیمیکل کی آگ یا آئل میں لگنے والی آگ پر فوم استعمال کیا جاتا ہے، گل پلازا میں فوم استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، ریسکیو 1122 اور نیوی کے فائر ٹینڈر فرنٹ سائیڈ پر کام کررہے تھے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ پانی ٹینکر سے آرہا تھا، ایسی صورتحال میں ہائیڈرنٹ سے کتنی دیر میں پہنچتا ہوگا، فائر ہائیڈرنٹ نہیں ہیں؟ چیف فائر افسر کے ایم سی نے بتایا کہ انگریزوں کے دور میں فائر ہائیڈرنٹ ہوتے تھے، واٹر کارپوریشن سے رابطہ کرتے ہیں پانی کے لیے، ایم اے جناح روڈ پر فائر ہائیڈرنٹ ہوتے تھے، فائر ہائیڈرنٹ اب موجود ہی نہیں ہیں، لوگوں کے رش کی وجہ سے مشکلات ہوتی ہیں۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ پانی کی ترسیل مسلسل کیسے ہوسکتی ہے؟ شہر میں ٹریفک کی صورتحال میں کیسے پہنچتے ہوں گے؟ چیف فائر افسر نے بتایا کہ فائر اسٹیشن میں پانی کے ٹینک موجود ہی نہیں ہوتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ کے متاثرین کو مفت پلاٹ دیں گے، گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا اعلان

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ کیا فائر بریگیڈ کا عملہ تربیت یافتہ ہے؟ فائر بریگیڈ کے لیے کیا میکانزم ہے؟ چیف فائر افسر نے بتایا کہ فائر اکیڈمی میں فائر فائٹرز اور وارڈنز کو تربیت دیتے ہیں، 30 سال پہلے فائر فائٹر کے لیے مڈل تعلیم چاہیے ہوتی تھی، چیف فائر افسر کے لیے میٹرک کی تعلیم چاہیے ہوتی تھی۔

کمیشن نے چیف فائر افسر سے پوچھا کہ اب کیا تعلیم ہونی چاہیے؟ آپ کی تعلیم کیا ہے؟ چیف فائر افسر نے جواب دیا کہ میں نے بی اے کیا ہے، 10 بج کر 50 منٹ پر پہلا باوزر پہنچا، کمیشن نے پوچھا کہ باوزر کو پہنچ کر ریڈی کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ چیف فائر افسر نے بتایا کہ لوگوں نے پائپ اپنی دکانوں میں لے جانے کی کوشش کی، 15 سے 20 منٹ بعد سیکیورٹی اہلکار پہنچے، صدر فائر اسٹیشن، بولٹن فائر اسٹیشن سے بھی ٹیمیں پہنچی۔

کمیشن نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ 11 سوا 11 پر باوزر کنیکٹ کرکے استعمال شروع کیا، چیف فائر افسر نے بتایا کہ ساڑھے 11 بجے پراپر آگ بجھانے کا کام شروع ہوا، ساڑھے 12 بجے واٹر کارپوریشن کا ٹینکر پہنچا۔

کمیشن نے پوچھا کہ موقع پر پہنچنے کے بعد کس طرح طے کیا جاتا ہے کونسی نوعیت کی آگ ہے یا کون سا میٹریل استعمال کرنا ہے؟ آگ لگنے کی وجوہات سے متعلق کیا تحقیقات کی ہیں؟ آگ خود نہیں لگتی یا تو لگائی جاتی ہے یا غفلت ہوتی ہے، دکانداروں کے بیانات کے مطابق آگ کی شدت زیادہ تھی، 10 منٹ میں آگ پھیلی، کھڑکیاں اینٹیں لگا کر بند تھیں، فائر بریگیڈ کہاں پانی مار رہا تھا؟

یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کا تبادلہ، کیا وجہ سانحہ گل پلازہ ہے؟

چیف فائر افسر نے بتایا کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ روڈ پر بھی کھڑا نہیں ہوسکتا تھا، فائر فائٹر اس کے باوجود آگ کا مقابلہ کرتے ہیں، بیسمنٹ میں لوگوں کا سونا اور پیسے تھے، راستے بار بار بند کیے جاتے تھے، اوپر جانے کے راستے بند تھے، دوسری منزل سے نیچے اترنے کے راستے بند تھے، ہمارے پاس ویڈیوز موجود ہیں۔

چیف فائر افسر کا مزید کہنا تھا کہ جو گاڑیاں اوپر سے اتاری گئی وہ محفوظ تھیں، آگ کی شدت ایسی تھی کہ گرل سرخ ہورہی تھی، اپنے تجربے کی بنیاد پر بتارہا ہوں درجہ حرارت 1000 ڈگری سے زیادہ تھا، دکانوں میں فالس سیلنگ موجود تھی جو جلدی آگ پکڑتا ہے، وینٹیلیشن بھی ایک وجہ ہے۔

کمیشن نے سوال کیا کہ آگ لگنے کے بعد کیا کرنا چاہیے تھا فوری طور پر؟ چیف فائر افسر کا کہنا تھا کہ اگر اعلان ہوتا چوکیدار دروازے کھول دیتے تو بہت سے لوگ بچ سکتے تھے، جسٹس آغا فیصل نے سوال کیا کہ انسانی جانوں کے ضیاع کی کیا وجہ تھی؟ چیف فائر افسر نے بتایا کہ لائٹ بند نہ ہوتی اور اعلان ہوتا تو انسانی جانیں بچ سکتی تھیں، اگر اندر لوگ موجود ہیں تو لائٹ آف نہیں کی جاتی، بجلی بند کروانے کا کام فائر بریگیڈ طے کرتا ہے۔

کمیشن نے سوال کیا کہ لائٹ کب بند کروائی گئی؟ چیف فائر فائٹر نے بتایا کہ ہم جب پہنچے تو لائٹ بند تھی، کمیشن نے پوچھا کہ جب آگ اتنی زیادہ ہو گئی تھی تو آگ بجھانے کے کیا امکانات تھے؟ فائر فائٹر نے بتایا کہ آگ کے درجہ حرارت کو کم کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ سانحے کے پیچھے قبضہ مافیا ہوسکتی ہے، فیصل ایدھی نے خدشات کا اظہار کردیا

صدر گل پلازا ایسوسی ایشن تنویر پاستا نے جوڈیشل کمیشن کو بتایا کہ 10 بج کر 10 منٹ پر آگ لگی، دکان نمبر 194 نے آگ کی اطلاع دی، فائر ایکسٹینشن ویشر لے کر اوپر گئے، کے الیکٹرک کو فون کیا کہ لوکل شٹ ڈاؤن کریں، لوکل شٹ ڈاؤن کا مقصد سب اسٹیشن بند ہوتا ہے، 7 سے 8 منٹ میں پورا علاقہ شٹ ڈاؤن کیا گیا، گراؤنڈ فلور پر 16 راستے سب کھلے تھے۔

صدر گل پلازا ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اوپر اور ریمپ سے لوگوں کو اتارا، فنانس سیکریٹری محمد علی گاندھی لوگوں کو نکالنے میں شہید ہوئے، پہلی فائر بریگیڈ کی گاڑی 10 بج کر 55 منٹ پر پہنچی، 20 منٹ میں پانی ختم ہوا، 20 منٹ بعد 2 گاڑیاں پہنچی، ڈی سی جنوبی اور ایس ایس پی سٹی موقع پر پہنچے تھے، پہلا ٹینکر 12 ساڑھے 12بجے پہنچا، وہ بھی ہم خود لے کر آئے۔

صدر گل پلازا ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اسنارکل استعمال کرنے کی کوشش میں جام ہو گیا اور 36 گھنٹوں تک وہیں موجود رہا، ریسکیو 1122 کو 15 روز میں کہیں نہیں دیکھا، فرقان دوسرے دن شہید ہوئے، پہلے دن کوئی فائر فائٹر اندر داخل نہیں ہوا، 1200 دکانیں کا مطلب 3 ہزار سے زائد لوگ موجود تھے۔

صدر گل پلازا ایسوسی ایشن نے کہا کہ اگر راستے بند ہوتے تو اتنے لوگ باہر نہیں نکلتے، مسجد کا گیٹ بند تھا جو بعد میں کھول دیا گیا، ریمپ کا راستہ دوسرے دن چار بجے بند ہوا، بیسمنٹ میں آگ دو دن بعد لگی تھی، بیسمنٹ میں دھواں بھرنے پر پنکھے لگائے، میزانائن فلور پر 14 وینٹیلیشن موجود ہیں، دکان کی کھڑکی پر گرل موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی: سرچ آپریشن مکمل کرلیا گیا، عمارت کو سیل کرنے کا فیصلہ

صدر گل پلازا ایسوسی ایشن نے مزید بتایا کہ کے ایم سی نے دو دن بعد دکانوں کے گرل کاٹی، اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو کم از کم لاشیں تو سلامت نکلتیں، ریسکیو اداروں کے میزانائن فلور سرچ کرنے کے بعد دکانداروں نے خود سرچ کیا تو باقیات ملیں، تمام ہلاکتیں میزنائن اور تھرڈ فلور پر ہوئیں، گراؤنڈ، پہلے اور دوسرے فلور پر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی.

انہوں نے بتایا کہ اتنی شدید آگ کے 3 دن بعد 50 گاڑیاں اتاری گئیں لیکن ٹائر ٹیک خراب نہیں ہوئے، اے سی کے آؤٹر نے آگ کو پکڑا اور آگ پھیلی۔ صدر گل پلازا ایسوسی ایشن نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور پر دو سے ڈھائی گھنٹے تک آگ لگی رہی۔

صدر گل پلازا ایسوسی ایشن تنویر پاستا نے کہا کہ 51 لوگ گل پلازا واقعے میں شہید ہوئے، راستے پتہ ہونے کے باوجود کچھ لوگ سامان نکالنے اور لوگوں کو بچانے میں لگے تھے، سیکنڈ فلور کی چھت کو جانے والے راستے کی گرل بند تھی، آگ لگنے کی وجہ سے شٹر خود بند ہوئے، تالے نہیں لگے تھے۔

کمیشن نے سوال کیا کہ آتشزدگی کی صورتحال میں انتظامیہ کا کیا پروٹوکول ہے؟ صدر گل پلازا ایسوسی ایشن نے بتایا کہ آگ بجھانے کے 100 سے زائد سلینڈر موجود تھے، ہم نے چوکیداروں کو تربیت دی تھی، تمام فلور پر آلات موجود تھے۔

کمیشن نے پوچھا کہ لائٹ بند کرنے کا فیصلہ کس کا تھا؟ صدر گل پلازا ایسوسی ایشن نے بتایا کہ دس بج کر 17 منٹ پر کے الیکٹرک کو کال کی، کمیشن نے پوچھا کہ شروع کے دس پندرہ منٹ میں لائٹ بند ہونے کے بعد آپ کے کتنے لوگ موجود تھے؟ ایسے کیا اقدامات کیے گئے لوگوں کو باہر نکالا جائے؟ صدر نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور پر 354 دکانوں سے خریداروں کو باہر نکالا، کچھ لوگ خود دکانوں میں رکے شاید آگ بجھ جائے گی، فائر بریگیڈ کے پاس ماسک نہیں، عمارت گرنے کے بعد ریسکیو نے کام کیا۔

یہ بھی پرھیں: سانحہ گل پلازہ: کمشنر کراچی کی حتمی رپورٹ مکمل، 79 اموات کی تصدیق

کمیشن نے سوال کیا کہ کیا ایمرجنسی لائٹ موجود تھیں؟ صدر گل پلازا ایسوسی ایشن نے بتایا کہ ایمرجنسی لائٹس موجود نہیں تھیں، لائٹ جانے کے بعد جنریٹر چلایا جاتا ہے، تقریباً دس بج کر 24 پر لڑکوں نے فائر بریگیڈ کو کال کی۔

کمیشن نے سوال کیا کہ کیا پہلی کال فائر بریگیڈ کو نہیں کی جانی چاہیے تھی؟ کیا وجہ تھی کہ پہلی کال کے الیکٹرک کو کی گئی؟ صدر گل پلازا ایسوسی ایشن نے بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ سے تار پگھل رہے تھے تو فوری طور پر کے الیکٹرک کو کال کی۔

کمیشن نے پوچھا کہ لائٹ جانے کے بعد جس کو راستہ نہیں پتہ ان کو اللہ کے واسطے چھوڑ دیا گیا؟ صدر نے بتایا کہ لائٹ جانے کے بعد بھی کچھ روشنی موجود رہتی ہے، میں نے لڑکوں کی ذمہ داری لگائی کہ ریسکیو کو کال کریں۔

کمیشن نے سوال کیا کہ بجلی بند کروادی اگر بند نہ کی جاتی تو کیا لوگ بچ سکتے تھے؟ گل پلازا ایسوسی ایشن نے بتایا کہ اگر تاروں میں آگ لگتی تو جو لوگ نکلے وہ بھی نہیں نکل پاتے، کمیشن نے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا آپشن تھا صرف ایک فلور کی لائٹ بند کی جاتی؟ صدر نے بتایا کہ چوکیداروں نے فلور کے سرکٹ بریکر بند کروائے۔

کمیشن نے سوال کیا کہ گل پلازا میں کیا اعلانات کی سہولت موجود ہے؟ صدر نے بتایا کہ جی، سہولت موجود ہے، کمیشن نے پوچھا کہ کیا اعلانات کروائے گئے؟ اس پر جواب دیا کہ اعلانات نہیں کروائے گئے۔

جسٹس آغا فیصل نے سوال کیا کہ آپ کے خیال میں کیا ہونا چاہیے تھا یا کس کو کیا کرنا چاہیے تھا کہ نقصان کم ہوتا؟ صدر گل پلازا ایسوسی ایشن نے جواب دیا کہ اگر ریسکیو اہلکار کام کرتے تو نقصان کم ہو سکتا تھا، کمیشن نے کہا کہ ریسکیو کے مطابق وہ دس بج کر 52 پہنچے تب تک تو بہت دیر ہو گئی تھی، صدر نے بتایا کہ اگر فائر بریگیڈ کی زیادہ گاڑیاں پہنچ جاتیں تو آگ کو بڑھنے سے روکا جا سکتا تھا۔

کمیشن نے سوال کیا کہ جلدی پہنچنے کے بعد بند کھڑکیوں پر کہاں پانی مارتے؟ صدر نے کہا کہ جو لوگ کام کر رہے تھے دھویں کی وجہ سے نیچے نہیں جا سکے، جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ اوپر کیوں نہیں گئے؟

صدر نے جواب دیا کہ زیادہ تر لوگ اوپر گئے، اسنارکل کی مدد سے ایک بجے چھتوں سے لوگوں کو اتارا، کمیشن نے سوال کیا کہ کیا آگ سے بچاؤ کے انتظامات کافی تھے؟ کیا فائر سیفٹی سے متعلق کوئی نوٹس ملا؟ صدر نے بتایا کہ 2024 کا لیٹر موجود ہے فائر سیفٹی کا، اس میں کلیئرنس دی گئی تھی۔

کمیشن نے اجلاس ختم کرتے ہوئے دیگر محکموں کے حکام کل پیش ہونے کا حکم دیا، صدر گل پلازا تنویر پاستا بھی کل دوبارہ پیش ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp