چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد ظاہر کرنے پر بھارتی یونیورسٹی کو انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ سے باہر کر دیا گیا ہے۔
گلگوٹیاس یونیورسٹی کی پروفیسر نہا سنگھ نے ڈی ڈی نیوز کو بتایا تھا کہ ’یہ روبوٹ اورین گلگوٹیاس یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس نے تیار کیا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد ظاہر کرنے پر بھارتی کمپنی کی عالمی سطح پر سُبکی
تاہم سوشل میڈیا صارفین نے فوری طور پر بتایا کہ یہ دراصل چین کی کمپنی یونیٹری روبوٹکس کا ماڈل ’یونیٹری گو 2‘ ہے، اور یہ تحقیق اور تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت بڑھا جب آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو نے ویڈیو کلپ اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کیا، لیکن تنقید کے بعد پوسٹ ہٹا دی گئی۔ بعد ازاں گلگوٹیاس یونیورسٹی اور نہا سنگھ نے واضح کیا کہ روبوٹ یونیورسٹی کی تخلیق نہیں تھا اور ادارے نے کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔
India’s AI Summit or Modi PR Show
Chinese Robot Passed Off as Indian Innovation pic.twitter.com/vT0KOvJr4c— Congress (@INCIndia) February 18, 2026
اس واقعے پر شدید تنقید ہو رہی ہے اور اسے بھارت کے مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے لیے شرمندگی کا باعث قرار دیا جا رہا ہے، شدید تنقید کے بعد یونیورسٹی کو اے آئی امپیکٹ سمٹ سے باہر کر دیا گیا ہے۔
بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’مودی حکومت نے مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بھارت کا عالمی سطح پر مذاق بنا دیا ہے‘۔
گلگوٹیاس یونیورسٹی نے معافی مانگ لی
گڑھی نوئیڈا میں قائم گلگوٹیاس یونیورسٹی نے اے آئی سمٹ میں چینی ساختہ ربوٹک ڈاگ کو اپنی ایجاد کے طور پر پیش کرنے کے تنازع کے بعد معافی مانگ لی ہے۔
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سمٹ کے منتظمین نے یونیورسٹی سے اپنی نمائش کا اسٹال خالی کرنے کا حکم دیا۔
— Galgotias University (@GalgotiasGU) February 18, 2026
یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں اس واقعے کی ذمہ داری نیہا سنگھ پر ڈالی گئی اور کہا گیا کہ وہ معلومات سے آگاہ نہیں تھیں، یونیورسٹی نے مزید کہا کہ پروڈکٹ کے تکنیکی پس منظر سے وہ واقف نہیں تھیں اور کیمرے پر پہنچنے کے جوش میں حقیقت کے منافی معلومات دی گئیں۔
گلگوٹیاس یونیورسٹی نے اس تنازع میں کسی بھی ادارتی نیت سے غلط تاثر دینے سے انکار کرتے ہوئے عوام سے سمجھ بوجھ کی اپیل کی۔ یونیورسٹی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ منتظمین کی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے نمائش کی جگہ خالی کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویب سمٹ میں چینی روبوٹ نے دھوم مچا دی
نیہا سنگھ نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس غلط فہمی کی وجہ غیر واضح کمیونیکیشن تھی اور یونیورسٹی نے کبھی بھی روبوٹ کی تیاری کا دعویٰ نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے طلبہ کو یہ روبوٹ دکھایا تاکہ وہ خود کچھ بہتر تخلیق کرنے کی ترغیب حاصل کریں۔
اس تنازع کے بعد گلگوٹیاس یونیورسٹی کا اسٹال سمٹ میں خالی دکھائی دیا، جبکہ کچھ طلبہ وہاں موجود رہے۔











