سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعہ پیش آیا جب ایک چینی خاتون انفلوئنسر کی لائیو اسٹریم کے دوران بیوٹی فلٹر میں خرابی آگئی اور اس کا اصل چہرہ سامنے آ گیا۔ اس واقعے کے فوری بعد انفلوئنسر کو شدید نقصان ہوا اور اس کے 1 لاکھ 40 ہزار فالوورز کم ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی انفلوئنسر لی زی چی کی سوشل میڈیا پر واپسی، 3 برس کہاں غائب رہیں؟
واقعہ اس وقت پیش آیا جب انفلوئنسر اپنے فالوورز کے ساتھ لائیو سیشن کررہی تھیں۔ وہ عام طور پر بیوٹی فلٹرز استعمال کرتی تھیں جو ان کی جلد کو ہموار، چہرے کو پرکشش اور آنکھوں کو بڑا دکھاتے تھے۔
اسٹریم کے دوران فلٹر اچانک فیل ہوگیا اور ان کا قدرتی چہرہ سامنے آگیا، جس میں جلد کی قدرتی ساخت اور عمر کے اثرات واضح تھے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فلٹر کے ختم ہوتے ہی انفلوئنسر کا چہرہ ایک نوجوان پرکشش لڑکی سے ایک بالغ خاتون کی شکل اختیار کرگیا۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ کچھ صارفین نے انفلوئنسر پر تنقید کی کہ وہ فالوورز کو دھوکہ دے رہی تھیں، جبکہ دیگر نے کہا کہ فلٹرز کا استعمال آن لائن تفریح کا حصہ ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’فلٹرز صرف تب تک کام کرتے ہیں جب تک وہ کام کرتے ہیں۔‘
اس واقعے نے آن لائن شہرت، صداقت اور بیوٹی اسٹینڈرڈز پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ انفلوئنسر، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، اپنے فالوورز کو ایک مثالی اور پرکشش شکل پیش کرکے بڑی تعداد میں مداح بنا چکی تھیں۔ فلٹر فیل ہونے کے بعد نہ صرف فالوورز میں کمی ہوئی بلکہ انہیں تحائف اور ڈونیشنز میں بھی نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی جوڑے کو باکس میں ملنے والی پاکستانی لڑکی نے سوشل میڈیا مداح سے شادی کیوں کی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر فلٹرز کا استعمال عام ہے، لیکن ایسے واقعات صارفین کو یاد دلاتے ہیں کہ آن لائن پیش کی جانے والی تصویر ہمیشہ حقیقت نہیں ہوتی۔ یہ واقعہ چین کی لائیو اسٹریمنگ انڈسٹری پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، جہاں انفلوئنسرز اپنی شکل و صورت کو بدل کر کمائی کرتے ہیں۔
ویڈیو اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہے اور لاکھوں لوگ اسے دیکھ چکے ہیں، تاہم انفلوئنسر نے اب تک اس واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔











