فرحت شہزادی المعروف فرح گوگی اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کے خلاف تھانہ صدر میں فراڈ اور دھوکہ دہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
مزید پڑھیں: فرح گوگی، شہزاد اکبر اور زلفی بخاری کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم
پولیس کے مطابق درج ایف آئی آر میں مسلم لیگ (ن) کے سابق صوبائی وزیر چوہدری اقبال گجر کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو فرح گوگی کے سسر اور احسن جمیل کے والد ہیں۔
مزید برآں ایف آئی آر میں چوہدری اقبال گجر کے بیٹے، بھائی اور بھتیجے کے نام بھی شامل ہیں، جبکہ سوسائٹی کے مینیجر اور دیگر ملازمین بھی ملزم قرار دیے گئے ہیں۔
مقدمے کے متن کے مطابق یہ سوسائٹی 2005 میں قائم کی گئی تھی اور پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران جی ڈی اے سے اس کی منظوری لی گئی تھی۔
الزامات کے مطابق ملزمان نے سوسائٹی میں پارک، اسکول اور قبرستان کے لیے مختص اراضی کو فروخت کیا اور جعلی دستاویزات تیار کرکے سرکاری زمین کی فروخت کی۔
واضح رہے کہ فرح گوگی کا نام اس وقت خبروں میں آیا تھا جب پنجاب میں عثمان بزدار کی حکومت کے دوران ان کے کردار کا ذکر سامنے آیا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی فرنٹ پرسن فرح گوگی کی کرپشن کی داستان منظر عام پر آگئی
ناقدین کا الزام ہے کہ عثمان بزدار کے دور میں پنجاب کی حکومت فرح گوگی جیسے کردار ہی چلا رہے تھے، ان پر کرپشن کے بھی متعدد الزامات ہیں۔














