سپریم کورٹ میں بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول سمیت دیگر ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔
دورانِ سماعت جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ سزائے موت کا مقدمہ 2 رکنی بینچ نہیں سن سکتا۔
جس پر پروسیکیوٹر رائے اختر حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ مشہور چھوٹو گینگ کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی آر میں ’نو مسلم شیخ‘ لکھنے پر سپریم کورٹ کا سخت اظہارِ برہمی
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ چھوٹو گینگ تو پنجاب میں بڑا مشہور تھا، اور اب سی سی ڈی نے سب ختم کر دیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ وہ مقدمات لڑنے والے وکیل عمران کو بھی لے گئے تھے۔
اس پر وکیل سردار عثمان نے کہا کہ وہ بھی چھوٹو گینگ کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں تاہم محفوظ ہیں۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے صحافی سہراب برکت کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی
جس پر جسٹس ملک شہزاد نے ازراہِ مذاق کہا کہ پہلے تو نہیں اٹھائے گئے، ایسا نہ ہو اب کچھ ہو جائے۔
وکیل نے استدعا کی کہ کیس کی آئندہ تاریخ منگل مقرر کی جائے۔
جسٹس ملک شہزاد نے مسکراتے ہوئے کہا کہ منگل کی تاریخ مانگ رہے ہیں، استخارہ تو نہیں کر کے آئے۔
مزید پڑھیں: مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں: سپریم کورٹ نے قاتل شوہر کی اپیل خارج کر دی
وکیل نے جواب دیا کہ منگل نہیں تو کوئی اور تاریخ دے دی جائے۔
دورانِ سماعت بابرکت مہینے اور کرکٹ ورلڈ کپ کے حوالے سے بھی دلچسپ مکالمہ ہوا۔
وکیل نے کہا کہ بابرکت مہینہ ہے، اسی مہینے پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا تھا، جس پر جسٹس عقیل احمد نے ریمارکس دیے کہ اس ورلڈ کپ کا ذکر نہ کیا کریں۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات آئندہ 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر
جسٹس ملک شہزاد نے بھی کہا کہ کچھ لوگوں کو اس ورلڈ کپ کا ذکر ناگوار گزرتا ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ چیمپیئنز ٹرافی بھی رمضان میں جیتی گئی تھی۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول سمیت 4 ملزمان نے اپنی سزاؤں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔











