قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ کا کہنا ہے کہ اگر انہیں سچ بولنے کی سزا دی جاتی ہے تو ان پر لائف ٹائم پابندی لگا دی جائے لیکن وہ سچ کہنا نہیں چھوڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: آسٹریلیا میں قومی ہاکی ٹیم کی غیر معیاری رہائش، ’ذمہ داروں کو لازمی سزا ملنی چاہیے‘
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کپتان عماد بٹ نے انکشاف کیا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کھلاڑیوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے لیے ہوٹل کے کمرے تک بک نہیں کیے گئے انہیں پورا دن مختلف مقامات پر گھمایا جاتا رہا اور بعد ازاں کسی کے گھر میں کرائے پر کمرے لیے گئے جہاں ایک، ایک کمرے میں 5، 5کھلاڑی قیام پذیر رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام کھلاڑی شدید اسٹریس کا شکار تھے جس کے باعث وہ میچ میں بہتر کارکردگی بھی پیش نہ کر سکے۔
عماد بٹ نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ان پر 2 سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم اگر وہ جھوٹے ثابت ہوں تو ان پر لائف ٹائم بین لگا دیا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کرپشن میں ملوث ہے اور اس کی شفاف انکوائری کروائی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر فنڈز جاری کیے گئے تھے تو وہ رقم کہاں خرچ کی گئی؟
قومی ٹیم کے کپتان نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور آرمی چیف اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔
مزید پڑھیے: قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے 115 ڈالر یومیہ الاؤنس کا اعلان
ایک سوال کے جواب میں عماد بٹ نے کہا کہ شہباز سینیئر اور پوری مینجمنٹ آسٹریلیا میں ٹیم کے ساتھ نہیں ٹھہری۔ ان کے بقول شہباز سینیئر اپنے ایک دوست کے اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھے اور پاکستان واپسی سے ایک روز قبل ہی واپس آ گئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کھلاڑیوں کو ایئرپورٹ سے لینے کے لیے بس تک کا انتظام نہیں کیا جس کے باعث کھلاڑی ان ڈرائیو اور ینگو کے ذریعے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔
کپتان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں کھلاڑی خود کھانا بناتے اور برتن دھوتے تھے، جس کے بعد میچ کھیلنے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے موقف کی تائید تمام کھلاڑی کر رہے ہیں اور پوری ٹیم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
عماد بٹ نے مزید انکشاف کیا کہ انہیں ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرنے سے روکا گیا اور دھمکایا گیا، تاہم میڈیا نے خود دیکھ لیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کھلاڑیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
مزید پڑھیں: کھیلوں کی ترقی کے لیے اہم پیشرفت، مظفرآباد میں جدید ہاکی ایسٹرو ٹرف کا افتتاح جلد متوقع
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیم کی بہتری کے لیے ڈیلی الاؤنسز میں اضافہ کیا جائے، غیر ملکی کوچ تعینات کیا جائے اور ایسے عناصر کو ہٹایا جائے جو نہیں چاہتے کہ ٹیم بہتر کارکردگی دکھائے۔










