برطانیہ کے کنگ چارلس سوئم کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈزر کو عوامی عہدے میں بدانتظامی کے شبہ میں گرفتار کر لیا گیا ہے، پولیس نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ اینڈریو کو گرفتار کرنے کی وجوہات کیا ہیں، تاہم وہ ایک دہائی تک برطانیہ کے تجارتی نمائندے کے طور پر کام کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انیل امبانی کے جیفری ایپسٹین سے رابطوں کے انکشاف پر کانگریس نے سوالات اٹھا دیے
کنگ چارلس سوئم نے بیان میں کہا کہ انہیں اپنے چھوٹے بھائی کی گرفتاری کی خبرگہری تشویش کے ساتھ موصول ہوئی اور واضح کیا کہ قانون اپنا راستہ طے کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ میری اور میرے خاندان کی ذمہ داری عوام کی خدمت جاری رکھنا ہے۔
گرفتاری کے دوران پولیس اہلکار اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈزر کے نارفک میں واقع سینڈرنگھم میں کنگ چارلس کے نجی اثاثے پر پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: شیطان نہیں ہوں، پاکستان اور انڈیا میں پولیو مہم کو فنڈز دیے تھے، جیفری ایپسٹین کا انٹرویو میں دعویٰ
پولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اینڈریو نے اپنی تجارت کے نمائندے کے عہدے کے دوران جانتے بوجھتے یا حساس معلومات جفری ایپسٹین کے ساتھ شیئر کیں۔ اینڈریو نے پہلے بھی ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کے الزامات کی تردید کی تھی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ برطانیہ کے رائل خاندان کے رکن کو جدید دور میں گرفتار کیا گیا۔ سابق پرنس پر الزام ہے کہ انہوں نے عوامی عہدے کے دوران بدانتظامی کی، پولیس اب ان کے رہائش گاہوں اور الیکٹرانک آلات کی تلاشی لے سکتی ہے۔ گرفتاری کے بعد انہیں 24 سے 96 گھنٹے تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایک لمبی سویڈش سنہرے بالوں والی خاتون‘، انیل امبانی کی جیفری ایپسٹین سے فرمائش کا انکشاف
یاد رہے کہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈزر آج 66 سال کے ہو گئے ہیں۔ گرفتاری کے بعد ورجینیا جیفری کے خاندان نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب کوئی قانون سے بالاتر نہیں، چاہے وہ رائل ہی کیوں نہ ہو”۔











