وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن ہے اور فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر مکمل حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہا اور کہا کہ صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پاک بھارت جنگ رکی، جس سے کروڑوں جانیں بچیں۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ ٹرمپ کا اہم اعلان
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو، عالمی استحکام فورس کے قیام اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم امور زیر بحث آئے۔ امریکی صدر نے خطاب میں پاک بھارت کشیدگی اور پاکستانی افواج کی تعریف کی۔
صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا اور کہا کہ وہ وزیراعظم کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اجلاس کے آغاز سے قبل عالمی سربراہان کے ساتھ گروپ فوٹو بھی لیا گیا۔
🇺🇸 Washington: The first Gaza Peace Board meeting saw a warm welcome for Pakistan’s Prime Minister Shahbaz Sharif by US President Donald Trump.
Trump praised PM Shahbaz and Field Marshal Syed Asim Munir, calling him “an outstanding commander and a great fighter.” He recalled the… pic.twitter.com/MpZglddoVe
— Azhar Javaid (@azharjavaiduk) February 19, 2026
صدر ٹرمپ نے پاکستان آرمی کے چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اعلیٰ سپہ سالار اور بڑے فائٹر ہیں۔
پاک بھارت تنازع پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ شدید ہو رہی تھی، لیکن بروقت مداخلت سے جنگ رکی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خبردار کیا گیا کہ اگر جنگ نہ رکی تو بھاری اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:’ایسے تو مسئلہ کشمیر بھی بورڈ آف پیس میں جا سکتا ہے‘، مودی سرکار پریشانی کا شکار
پاک بھارت کشیدگی میں امریکی مداخلت
ٹرمپ نے پچھلے سال پاکستان اور بھارت کے درمیان عسکری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے دونوں ایٹمی طاقت رکھنے والے پڑوسیوں کے درمیان تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حالات تیزی سے بگڑ رہے تھے اور اس دوران متعدد ہوائی جہاز گرائے گئے۔
جنگ بندی میں مدد اور فضائی نقصان
امریکی صدر نے دوبارہ کہا کہ ان کی انتظامیہ کی سفارتی مداخلت، جس میں 200 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی بھی شامل تھی، نے جنگ بندی حاصل کرنے میں مدد دی۔ انہوں نے فضائی نقصان کے اپنے سابقہ تخمینے میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ اس تصادم میں “11 بہت قیمتی” طیارے گرائے گئے۔
مئی 2025 کا تصادم
ٹرمپ کے مطابق مئی 2025 کا یہ تصادم پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ دہائیوں میں سب سے شدید جھڑپوں میں سے ایک تھا، جس کے بعد جنگ بندی حاصل کی گئی۔
اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے جمع ہونے والی رقم کا اعلان اور عالمی استحکام فورس کے قیام کے اقدامات بھی زیر غور آئے۔ اجلاس میں امن، انسانی امداد اور خطے میں استحکام کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
Trump has been speaking for almost 15 minutes on the board of peace and didn’t talk about Gaza yet , he is doing the round praising world leaders. pic.twitter.com/iH9X6RdXN9
— Nadia Bilbassy Charters ناديا البلبيسي (@nadia_bilbassy) February 19, 2026
چین، روس اور برطانیہ سمیت سلامتی کونسل کے مستقل اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، اور اجلاس محدود شرکاء کے ساتھ منعقد کیا گیا تاکہ فوری فیصلے کیے جا سکیں۔ پاکستان کی شمولیت خطے میں امن اور انسانی امداد کے منصوبوں میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینی عوام کو ان کا حق دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں دیرپا امن قائم کرنا ایک تاریخی کامیابی اور پاکستان کی مثبت میراث ہوگی۔













