غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ ٹرمپ کا اہم اعلان

اتوار 15 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بورڈ آف پیس کے رکن ممالک جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو اور انسانی امداد کے لیے 5 ارب ڈالر سے زیادہ کے وعدے کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ رکن ممالک اسٹیبلائزیشن فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا بھی عزم رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’ایسے تو مسئلہ کشمیر بھی بورڈ آف پیس میں جا سکتا ہے‘، مودی سرکار پریشانی کا شکار

ان کے مطابق یہ اجلاس ڈونلڈ ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہونے والا بورڈ کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوگا، جس میں 20 سے زیادہ ممالک کے وفود شرکت کریں گے۔

اس بورڈ کے قیام کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے کی گئی تھی۔

یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان جاری تنازع ختم کرنا ہے۔

ادھر دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شریک ہوں گے جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔

اجلاس سے قبل فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے عالمی امن فورس کے حوالے سے اپنی شرائط واضح کی ہیں۔

حماس کے ترجمان نے کہاکہ عالمی فورس کو صرف سرحدی حدود تک محدود رہنا چاہیے اور فلسطین کے سول، سیاسی یا سیکیورٹی امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: 8 عرب اسلامک ممالک کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت کا خیرمقدم، مشترکہ اعلامیہ جاری

انہوں نے مزید کہاکہ اگر عالمی اہلکار داخلی امور میں دخل اندازی کریں تو فلسطینی انہیں قابض قوتوں کے متبادل کے طور پر دیکھیں گے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیل فلسطین جنگ میں اب تک 80 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور غزہ کا انفراسٹرکچر مکمل تباہ ہوگیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟