سعودی عرب: رمضان میں کھجوروں کی طلب میں اضافہ

جمعرات 19 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب میں کھجوریں نہ صرف مذہبی اور ثقافتی اہمیت رکھتی ہیں بلکہ مہمان نوازی اور روایتی رسموں کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے رمضان کے دوران افطار کی میزوں کا لازمی جزو بن جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کی آمد، جدہ کی کھجور مارکیٹوں میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ

عرب نیوز کے مطابق رمضان کے مہینے میں سعودی عرب کی کھجور کی صنعت میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔

مذہبی رسومات اور تحفہ دینے کے رواج کی بدولت سپر مارکیٹوں اور پریمیم پیکنگ سیکشن میں طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔

معاشی مشیر فاضل البنین نے بتایا کہ سال بھر کھجور کی طلب مستحکم رہتی ہے لیکن رمضان میں مقامی استعمال میں واضح اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں سعودی کھجور کی عالمی سطح پر بھی طلب میں اضافہ ہوا ہے تاہم رمضان میں مقامی طلب نمایاں بڑھ جاتی ہے کیونکہ کھجور افطار کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

اکثر لوگ روزہ افطار کرتے وقت تازہ رتب کھجور یا اگر وہ دستیاب نہ ہوں تو خشک کھجور کو ترجیح دیتے ہیں جس کے ساتھ کھجور کی غذائیت بھی طویل روزے کے دوران اہمیت رکھتی ہے۔

رمضان بمقابلہ پیداواری سیزن

فاضل البنین کے مطابق رمضان میں سیلز اور برآمدات میں اضافہ تو ہوتا ہے لیکن یہ کھجور کی صنعت کا حقیقی اقتصادی عروج نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی عروج کھجور کی فصل کے بعد ہوتا ہے جب مارکیٹس میں بڑی مقدار میں کھجور فروخت ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے: کنگ سلمان ریلیف سینٹر کا رمضان 2026 کے لیے پاکستان میں فوڈ باسکٹ پراجیکٹ کا آغاز

ان کا کہنا تھا کہ رمضان ریٹیل سیکٹر کے لیے اہم موسم ضرور ہے لیکن پیداواری اور ہول سیل سیزن سے مختلف ہے۔

فصل کے وقت ہونے والی نیلامیوں میں بڑے پیمانے پر ہول سیل فروخت کی جاتی ہے، جبکہ رمضان میں زیادہ تر فروخت پہلے سے موجود ذخیرے سے ہوتی ہے۔

قیمتیں اور مارکیٹ کی صورتحال

فاضل البنین نے کہا کہ پیداوار کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ نہیں آتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روایتی کھجوریں عام چینلز سے فروخت ہوتی ہیں اور قیمتیں مستحکم رہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قیمت میں اضافہ زیادہ تر پروسیس شدہ یا خوبصورت پیکنگ والے کھجوروں میں ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: تاریخی سرخ لاری: سعودی عرب اور خلیج کی ثقافتی پہچان

انہوں نے وضاحت کی کہ قیمتیں خاص طور پر جدید پیکنگ یا اضافی اجزا جیسے بادام وغیرہ والے پروسیس شدہ کھجور پر اثر انداز ہوتی ہیں اور روایتی کھجور کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں۔

پیداوار اور برآمدات

سعودی عرب میں زیادہ تر کھجور مقامی پیداوار ہیں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں محدود پروسیس شدہ مصنوعات دستیاب ہیں۔

سال 2024 میں سعودی کھجور کی برآمدات 1.695 بلین سعودی ریال تک پہنچ گئیں جبکہ پیداوار 1.9 ملین ٹن سے زائد رہی اور کھجور 133 ممالک کو برآمد ہوئی جو سال 2023 کے مقابلے میں 15.9 فیصد زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے: رمضان المبارک: لوگ بلوچستان کی کھجور زیادہ کیوں کھاتے ہیں؟

ویژن 2030 کے بعد سنہ 2016 سے سنہ 2024 کے درمیان برآمدی قدر میں 192.5 فیصد اضافہ ہوا۔ سعودی عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک، 33 ملین سے زائد کھجور کے درختوں کا گھر ہے جو عالمی ٹوٹل کا 27 فیصد بنتے ہیں۔

کھجور کی اہمیت اور مستقبل کے امکانات

فاضل البنین نے کھجور کو سعودی عرب کی خوراکی تحفظ کی فریم ورک میں ایک اسٹریٹجک جزو قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ صنعت میں مزید ترقی کے لیے طویل المدتی حکمت عملی، بہتر کیڑوں سے تحفظ اور ویلیو چین میں مضبوط ہم آہنگی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھجور کے سیکٹر کو ایک واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ سعودی عرب میں پیدا ہونے والی کھجور سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: سائنسدانوں نے غاروں میں ملے 2 ہزار سال پرانے بیجوں سے درخت اگالیے

ان کا کہنا ہے کہ کیڑوں جیسے ریڈ پام ویو اور دیگر نقصان دہ عوامل کے مکمل حل اور قومی کھجور کمپنی کے قیام کی ضرورت ہے جو فصل خریدے، پروسیس کرے، پیک کرے، تقسیم کرے اور برآمد کرے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کھجور پر مبنی صنعتوں میں سرمایہ کاری سے معیشت کے لیے اضافی قدر پیدا ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

محسن نقوی کی ہاکی کھلاڑیوں سے ملاقات، مکمل تعاون اور فوری اقدامات کا اعلان

علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور

عمران خان سے نہ کوئی ڈیل ہوئی ہے نہ ہوگی، حکومت کی پیشکش میثاقِ استحکامِ پاکستان ہے، رانا ثنا اللہ

پاکستان اور امریکا کا روزویلٹ ہوٹل سے متعلق اہم معاہدہ

عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں ہونے چاہی، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

رمضان ایک نئی شروعات اور ایک نئی امید کا مہینہ

غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن، وزیراعظم شہباز شریف کا بورڈ آف پیس سے خطاب

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ

دوراہے پر کھڑی تحریک انصاف