ایک امریکی ماہر قلب نے خبردار کیا ہے کہ بہت سے لوگ دل کی بیماری کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ وہ صرف شدید اور واضح علامات کے انتظار میں رہتے ہیں، جو عموماً ظاہر نہیں ہوتیں۔ ماہر قلب، ڈاکٹر سنجے بھوجراج، جو دو دہائیوں سے زائد تجربے کے حامل ہیں، کا کہنا ہے کہ زیادہ تر دل کے دورے اچانک سینے میں درد سے شروع نہیں ہوتے۔
ڈاکٹر بھوجراج نے 18 فروری کو انسٹاگرام پر بتایا کہ دل کے دوروں کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ یہ بغیر کسی وارننگ کے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ صرف معمول کے چیک اپ پر انحصار کرتے ہیں، جو صرف ٹیسٹ کے نتائج پر ہلکا سا جائزہ لیتے ہیں اور تفصیلی تجزیہ نہیں کرتے۔
مزید پڑھیں: اداکارہ شیفالی جریوالا کو دل کا دورہ کیوں پڑا؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
انہوں نے لکھا کہ میں نے کافی مریضوں کا علاج کیا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مسئلہ یہ نہیں کہ دل کی بیماری اچانک ظاہر ہوتی ہے، بلکہ یہ خاموشی سے بڑھتی ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنے خطرے سے تب واقف ہوتے ہیں جب کوئی واقعہ ان پر مسلط ہو جائے۔ اس لیے میری رائے میں روک تھام کا مطلب یہ نہیں کہ علامات کے انتظار میں بیٹھنا، بلکہ اپنے خطرات کو اس سے پہلے سمجھنا ہے کہ بحران پیدا ہو۔

ڈاکٹر بھوجراج نے کہا کہ مریضوں کو کولیسٹرول کے نمونے، سوزش کے اشاریے اور بلڈ پریشر کے طویل المدتی رجحانات کی تفصیل دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے دل کی صحت کو 5، 10 یا 15 سال بعد کے لیے سمجھ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف ٹیسٹ آرڈر کرنا یا چارٹ دیکھ لینا کافی نہیں۔ بلکہ واقعی بیٹھ کر یہ سمجھانا ضروری ہے کہ آپ کے کولیسٹرول کے نمونے، سوزش کے اشاریے اور بلڈ پریشر کے رجحانات آپ کے مستقبل میں کیا اثر ڈال سکتے ہیں۔
برسوں کی ایمرجنسی کیسز کے تجربے کے بعد، ڈاکٹر بھوجراج نے اپنا طریقہ علاج بدل دیا ہے۔ وہ اب مریضوں کی ذاتی جسمانی اور طبی تاریخ کے مطابق خطرات کی نشاندہی اور روک تھام پر توجہ دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سشمیتا سین شوٹنگ کے لیے جے پور پہنچیں تو دل کا دورہ پڑا،ساتھی اداکار کا انکشاف
ان کا آخری مشورہ تھا کہ اپنے جسم کے شور مچانے کا انتظار مت کریں۔ جو لوگ صحت مند محسوس کرتے ہیں مگر اپنے اندرونی حالات کے بارے میں غیر یقینی ہیں، انہیں چاہیے کہ اپنے خطرات کو پہلے سے پہچانیں۔
نوٹ: یہ معلومات عمومی طبی معلومات فراہم کرتی ہیں اور کسی بھی صورت میں کسی ماہر طبی رائے کا متبادل نہیں ہیں۔ ہمیشہ کسی ماہر یا اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔














