بدنام زمانہ جنسی سمگلر جیفری ایپسٹین کے مبینہ استحصال کا شکار رہنے والی رینا اوہ نے ایک طویل عرصے بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایپسٹین نے برسوں تک انہیں ذہنی طور پر نقصان پہنچایا اور جوڑ توڑ کے ذریعے اپنے قابو میں رکھا۔
رینا اوہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب وہ 21 سال کی تھیں تو ایپسٹین، جو اس وقت 47 برس کے تھے، انہیں مسلسل تنقید اور توہین کا نشانہ بناتے تھے۔
انہوں نے کہا ’وہ پہلے میری تعریفیں کرتا تھا، پھر آہستہ آہستہ مجھے کمتر ثابت کرنے لگا۔ میرے جسم پر تنقید کرتا، مجھے بتاتا کہ مجھے اپنے جسم کے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔ وہ بار بار کہتا تھا کہ میں بہت زیادہ عمر کی ہو چکی ہوں، حالانکہ میں صرف 21 سال کی تھی۔ آپ تصور کریں کہ ایک 21 سالہ لڑکی کو کہا جائے کہ وہ بوڑھی ہو چکی ہے تو اس کی کیا حالت کیا ہوگی۔‘
بچپن کے زخم اور آسان شکار
رینا اوہ کے مطابق وہ بچپن میں بھی جنسی استحصال کا شکار رہ چکی تھیں، جس کی وجہ سے وہ فطری طور پر خاموش مزاج بن گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے ’ایک لمبی سویڈش سنہرے بالوں والی خاتون‘، انیل امبانی کی جیفری ایپسٹین سے فرمائش کا انکشاف
انہوں نے بتایا ’5 یا 6 سال کی عمر میں مجھے ایک بالغ شخص نے نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ استحصال ہے۔ میں پہلے ہی اندر سے ٹوٹی ہوئی تھی، اور جیفری نے یہ بات بھانپ لی تھی۔ اس نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔‘
ان کے مطابق مسلسل ذہنی دباؤ اور استحصال نے ان کی زندگی پر دیرپا اثرات چھوڑے۔
فلوریڈا کا سفر اور ’تاریک راز‘
رینا اوہ نے بتایا کہ ایک موقع ایسا آیا جب انہیں اندازہ ہوا کہ معاملہ ان کے خیال سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ فلوریڈا کے ایک سفر کے دوران، جہاں وہ ایپسٹین اور ایک اور لڑکی کے ساتھ گئی تھیں، ایپسٹین نے انہیں کچھ ایسے راز بتائے جو ان کے بقول ’اس کے تاریک ترین رازوں میں سے تھے‘۔
جب انہوں نے یہ بات ایک اور لڑکی کو بتائی تو اس نے جا کر ایپسٹین کو آگاہ کر دیا، جس کے بعد انہیں دھمکی دی گئی۔
’اس کے بعد مجھے لگا کہ چاہوں بھی تو اس سے الگ نہیں ہو سکتی۔‘
دھمکیاں اور خوف کا ماحول
رینا اوہ کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کے پاس ان کے بارے میں ایسی معلومات تھیں جنہیں وہ نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔
’اس نے مجھے براہِ راست بلیک میل نہیں کیا، لیکن اس وقت میرے پاس مستقل رہائش (پرمننٹ ریزیڈنسی) نہیں تھی۔ وہ کہتا تھا کہ وہ واشنگٹن میں سب کو جانتا ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ صرف ایک فون کال سے میری زندگی مشکل بنا سکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایپسٹین کو ان کے اور ان کے والدین کے گھر کا پتہ معلوم تھا اور انہیں شبہ ہے کہ ان کی نگرانی بھی کرائی جاتی تھی۔
آخری ملاقات اور ہمیشہ کے لیے علیحدگی
رینا اوہ کے مطابق آخری بار جب انہوں نے ایپسٹین کو دیکھا تو وہ نہایت پرتشدد رویہ اختیار کیے ہوئے تھا۔
’اس کے بعد میں کبھی واپس نہیں گئی۔ میں نے اس کی فون کالز سننا ہی چھوڑ دیں، لیکن میں نے طویل عرصے تک اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔‘
رینا اوہ نے سابق برطانوی شہزادے پرنس اینڈریو کی ایپسٹین کیس میں گرفتاری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا ’یہ وقت تھا کہ کچھ ایسا ہوتا۔ چاہے وہ دیگر الزامات کو تسلیم نہ کریں، لیکن انہیں جواب دینا ہوگا کہ سزا یافتہ شخص کے جیل سے نکلنے کے بعد بھی وہ اس کے ساتھ کیوں رہے۔‘
یہ بھی پڑھیے اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟
تاہم انہوں نے امریکی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں اس معاملے پر خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
یاد رہے کہ شہزادہ اینڈریو کو گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا تھا۔
رینا اوہ نے دیگر متاثرین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ دنیا ان کی پرواہ کرتی ہے۔ انہیں مضبوط رہنا ہوگا۔ حکومت یا محکمہ انصاف سے خوفزدہ نہ ہوں۔ کئی متاثرین اس وقت خوفزدہ ہیں کیونکہ برسوں بعد ان کے نام سامنے آئے ہیں، مگر ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگا۔ مکمل شفافیت حاصل کر کے رہیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس منظم مجرمانہ نیٹ ورک میں شامل تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔














