پاکستان ہاکی فیڈریشن یعنی پی ایچ ایف کے صدر طارق بگٹی کے استعفے کے بعد سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محی الدین احمد وانی نے ایڈہاک صدر کا چارج سنبھال لیا ہے۔
چارج سنبھالنے کے بعد محی الدین احمد وانی نے کہا کہ ورلڈ کپ کوالیفائنگ مرحلے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے، اس لیے کیمپ آج یا کل شروع کر دیا جائے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کپتان عماد شکیل بٹ پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے اور ہاکی کی بحالی و فروغ کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کپتان عماد بٹ پر پابندی لگانے کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی مستعفی
محی الدین وانی کے مطابق ٹیم مینجمنٹ کی ازسرنو تشکیل، کوچنگ اور تربیتی نظام میں بہتری اور ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کھلاڑیوں کو ہدایت کی کہ وہ صرف کھیل پر توجہ دیں، انتظامی امور فیڈریشن سنبھالے گی، اور تمام فیصلے شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
پی ایچ ایف کے پیٹرن اِن چیف وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو بگٹی کا استعفیٰ فوری طور پر منظور کرتے ہوئے فیڈریشن میں مبینہ بدانتظامی کا نوٹس بھی لیا تھا۔

طارق بگٹی نے استعفیٰ دیتے ہوئے پاکستان اسپورٹس بورڈ پر بدانتظامی اور فنڈز کی بروقت عدم فراہمی کا الزام عائد کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی ایچ پرو لیگ میں شرکت کے لیے سفری اور لاجسٹک اخراجات کی ادائیگی میں تاخیر کی گئی۔
آسٹریلیا میں ہوٹل بکنگ کی رقم وقت پر ادا نہ ہونے سے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور انہیں بتایا گیا کہ ادائیگی کا عمل 2 ماہ تک لے سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری بھی مستعفی ہوگئے
بگٹی نے وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی اپیل بھی کی۔
طارق بگٹی نے قومی کپتان عماد شکیل بٹ پر ساتھی کھلاڑیوں کو دھمکانے اور فیڈریشن کے خلاف مہم چلانے کا الزام لگاتے ہوئے ان پر 2 سال کی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنااللہ نے بتایا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کی قائم کردہ 3 رکنی انکوائری کمیٹی نے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔
دوسری جانب عماد شکیل بٹ نے ٹیم مینجمنٹ اور پی ایچ ایف پر بدانتظامی اور ذہنی ہراسانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ دورہ کے دوران کھلاڑیوں سے ایسے کام کرائے گئے جو کسی پیشہ ور ایتھلیٹ کے شایانِ شان نہیں۔
ان کے مطابق کھلاڑیوں سے کچن صاف کروانے، برتن دھلوانے، کپڑے خود دھونے اور واش رومز صاف کروانے جیسے کام لیے گئے، جس کے بعد انہیں ٹریننگ اور میچز کھیلنے جانا پڑتا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان ہاکی فیڈریشن میں سیاست، خواجہ آصف اور رانا ثنااللہ کھل کر بول پڑے
ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے لاہور میں قومی ہاکی ٹیم سے ملاقات کی اور پرو ہاکی لیگ کے دوران مبینہ ناروا سلوک پر کھلاڑیوں کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے مصر میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر سے قبل مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
مزید پڑھیں: وسائل، ویور شپ اور سٹارڈم کی کمی: دنیا کے 10 بڑے کھیلوں میں شامل ہاکی زوال کا شکار کیوں؟
محسن نقوی نے فوری طور پر ہوائی ٹکٹ، کھیلوں کا سامان اور ہوٹل رہائش کا انتظام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے جمعہ سے ٹریننگ کیمپ لگانے کا حکم دیا۔
انہوں نے زخمی کھلاڑیوں کو پی سی بی کی نگرانی میں فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے حالیہ قومی ٹورنامنٹ میں رنر اپ رہنے پر ہر کھلاڑی کو 10 لاکھ روپے کا چیک بھی دیا۔














