بدنام مالیاتی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کی جائیداد نے ایک اجتماعی مقدمہ نمٹانے کے لیے 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
یہ مقدمہ ایپسٹین کے 2 مشیروں پر اس الزام کے تحت دائر کیا گیا تھا کہ انہوں نے کم عمر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کی جنسی اسمگلنگ میں اس کی معاونت اور اعانت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایپسٹین نے اپنے گھناؤنے راز مجھے بتائے‘ متاثرہ خاتون کے چونکا دینے والے انکشافات
ایپسٹین متاثرین کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم نے جمعرات کو مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں اس تصفیے کا اعلان کیا۔
اگر عدالت اس معاہدے کی منظوری دے دیتی ہے تو 2024 میں دائر کیا گیا مقدمہ ختم ہو جائے گا۔
Jeffrey Epstein’s estate has agreed to pay as much as $35 million to resolve a class action lawsuit that accused two of the disgraced financier's advisers of aiding and abetting his sex trafficking of young women and teenage girls, according to a court filing…
— Reuters (@Reuters) February 20, 2026
مذکورہ مقدمہ ایپسٹین کی جائیداد کے شریک منتظمین اور ایپسٹین کے سابق ذاتی وکیل ڈیرن انڈائک اور سابق اکاؤنٹنٹ رچرڈ کان کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔
اس سے قبل ایپسٹین کی جائیداد ایک ازالہ فنڈ قائم کر چکی ہے جس کے تحت متاثرین کو 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے۔
جبکہ مزید 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر مختلف تصفیوں کی مد میں ادا کیے جا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایپسٹین فائلز میں انسانیت کے خلاف جرائم کے شواہد سامنے آگئے، اقوام متحدہ
ڈیرن انڈائک اور رچرڈ کان کے وکیل ڈینیئل ایچ وینر نے ایک بیان میں کہا کہ اس تصفیے کے تحت ان کے مؤکلین نے کسی قسم کی بدعنوانی یا غلط رویے کا اعتراف نہیں کیا۔
ان کے مطابق دونوں شریک منتظمین مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے، تاہم ایپسٹین کی جائیداد کے خلاف ممکنہ تمام دعوؤں کو حتمی طور پر نمٹانے کی غرض سے ثالثی اور تصفیے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔
وینر کا کہنا تھا کہ یہ تصفیہ ان متاثرین کے لیے مالی ریلیف کا ایک خفیہ راستہ فراہم کرے گا، جنہوں نے اب تک جائیداد کے خلاف اپنے دعوے طے نہیں کیے۔
مزید پڑھیں: ایپسٹین فائلز سامنے لے آئیں، ٹرمپ انتظامیہ پردہ پوشی کر رہی ہے، ہیلری کلنٹن کا الزام
جیفری ایپسٹین اگست 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے اور حکام کے مطابق ان کی موت خودکشی قرار دی گئی تھی۔
2024 کے مقدمے میں مدعی وکلا کا مؤقف تھا کہ انڈائک اور کان نے ایپسٹین کی مدد سے کمپنیوں اور بینک اکاؤنٹس کا ایک پیچیدہ جال قائم کیا، جس کے ذریعے وہ اپنے جرائم چھپاتا، متاثرین اور بھرتی کرنے والوں کو ادائیگیاں کرتا اور خود بھی مالی طور پر فائدہ اٹھاتا رہا۔
مزید پڑھیں: انیل امبانی کے جیفری ایپسٹین سے رابطوں کے انکشاف پر کانگریس نے سوالات اٹھا دیے
اسی قانونی فرم نے اس سے قبل جے پی مورگن چیس اور ڈوئچے بینک کے خلاف بھی کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 36 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے تصفیے حاصل کیے گئے تھے۔
ان بینکوں پر الزام تھا کہ انہوں نے ایپسٹین جیسے منافع بخش گاہک کے بارے میں مشکوک سرگرمیوں کو نظر انداز کیا۔














