سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے 200 مرد و خواتین شہریوں کو ان کے اہم انسانی اقدام کے اعتراف میں کنگ عبدالعزیز میڈل (تیسری کلاس) دینے کی منظوری دے دی۔ یہ اعزاز ان افراد کو دیا جائے گا جنہوں نے زندہ یا دماغی موت کے بعد اپنے اعضا عطیہ کیے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے سابق امریکی سینٹکام کمانڈر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نواز دیا
یہ تازہ شاہی فرمان اُن قومی اقدامات کا تسلسل ہے جن کے تحت زندگی کا تحفہ دینے والے شہریوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران شاہ سلمان 2,500 سے زائد شہریوں کو ان کی جان بچانے والی خدمات پر یہ باوقار تمغہ عطا کر چکے ہیں۔
حال ہی میں نشر ہونے والی ایک ٹی وی رپورٹ میں اس جاری قومی مہم کو اجاگر کیا گیا، جس میں دکھایا گیا کہ مملکت اپنے شہریوں اور سوگوار خاندانوں کی غیر معمولی قربانیوں کو کیسے سراہتی ہے اور ملک بھر میں اعضا عطیہ کرنے کی ثقافت کو فروغ دے رہی ہے۔
سعودی عرب میں اعضا عطیہ کرنے کے پروگرام میں عوامی شرکت اور شعور میں نمایاں اضافہ مئی 2021 میں دیکھنے میں آیا، جب شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان نے باضابطہ طور پر خود کو اعضا عطیہ کرنے والوں کے طور پر رجسٹر کرایا۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب: رمضان میں کھجوروں کی طلب میں اضافہ
قومی ڈونر پروگرام کا انتظام سعودی سینٹر فار آرگن ٹرانسپلانٹیشن کے تحت کیا جاتا ہے۔ شاہ سلمان نے 1984 میں اس ادارے کے پیش رو کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جس کا مقصد گردوں کے عارضے میں مبتلا مریضوں کی تکالیف کم کرنا تھا۔ بعد ازاں اس پروگرام کو وسعت دے کر دل، جگر، پھیپھڑوں اور دیگر اعضا کی پیوندکاری تک پھیلا دیا گیا، تاکہ آخری مرحلے کے اعضا فیل ہونے والے مریضوں کو نئی زندگی دی جا سکے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک اقتصادی معاہدے کی تیاری میں ہے، سعودی سفیر
مزید حوصلہ افزائی کے لیے سعودی عرب کی قومی ایپ توکلنا میں بھی ایک ڈیجیٹل اعزازی نظام شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت رجسٹرڈ ڈونرز کے پروفائل پر سونے، چاندی یا کانسی کے بیجز ظاہر کیے جاتے ہیں، تاکہ انہیں اخلاقی سپورٹ اور سماجی سطح پر اعتراف فراہم کیا جا سکے۔














