پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ مئی 2024 اور مئی 2025 کے بعد کے عرصے کے تقابلی جائزے میں صوبے بھر، خصوصاً لاہور میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سی سی ڈی کے مطابق محکمے نے گزشتہ سال مئی میں آپریشنز کا آغاز کیا تھا اور حالیہ اجلاس میں کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق لاہور میں قتل کے واقعات 361 سے کم ہو کر 220 رہ گئے، جو 39 فیصد کمی ہے، جبکہ اقدام قتل کے کیسز 812 سے کم ہو کر 504 (38 فیصد کمی) ہو گئے۔ ڈکیتی کے واقعات 35 سے 15 اور گھریلو ڈکیتی 33 سے کم ہو کر 6 رہ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں سی سی ڈی کے قیام کے بعد جرائم میں نمایاں کمی، پولیس کا دعویٰ
رپورٹ میں کہا گیا کہ راہزنی کے واقعات میں 78 فیصد کمی آئی، موٹرسائیکل اور گاڑی چھیننے کے واقعات میں بالترتیب 69 اور 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ صوبے بھر میں قتل کے واقعات 3,952 سے کم ہو کر 3,022 (24 فیصد کمی) اور اقدام قتل میں 18 فیصد کمی ہوئی۔
سی سی ڈی کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 19 پولیس اہلکار شہید اور 167 زخمی ہوئے، جن میں 13 اہلکار سی سی ڈی کے شامل ہیں۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے سی سی ڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت اقدامات کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 2025 کے 8 ماہ میں 670 مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: راولپنڈی میں پولیس مقابلہ، کئی وارداتوں میں ملوث بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ وہ آئین پاکستان اور پولیس آرڈر 2002 کے تحت کام کرتا ہے، اور طاقت کا استعمال صرف آخری چارہ کار کے طور پر کیا جاتا ہے۔














