بلوچستان اسمبلی میں نشستوں میں اضافے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

ہفتہ 21 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان اسمبلی نے جمعہ کے روز متفقہ طور پر ایک اہم قرارداد منظور کر لی، جس میں صوبے کی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل صوبہ ہونے کے باوجود بلوچستان کو قانون ساز اداروں میں مناسب نمائندگی حاصل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم، ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کا دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

قرارداد جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی اصغر علی ترین نے پیش کی۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے تقریباً نصف رقبے پر مشتمل ہے اور جغرافیائی و دفاعی لحاظ سے نہایت اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس کے عوام کو کلیدی قانون ساز فورمز میں مکمل نمائندگی حاصل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بنیاد منصفانہ نمائندگی ہے۔ بلوچستان نے وفاق کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، مگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس کی آواز اس کے حجم، آبادی کے پھیلاؤ اور اسٹریٹجک کردار کے مطابق نہیں۔

نشستوں میں اضافے کی تجویز

قرارداد کے مطابق بلوچستان اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 65 سے بڑھا کر 85 کرنے اور قومی اسمبلی میں صوبے کی نشستیں 16 سے بڑھا کر 40 کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اراکین کا مؤقف تھا کہ نشستوں میں اضافہ نہ صرف سیاسی شمولیت کو یقینی بنائے گا بلکہ وفاقی ڈھانچے کو بھی مضبوط کرے گا۔

حکومت اور اپوزیشن کی حمایت

ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن دونوں بینچوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے قرارداد کی بھرپور حمایت کی۔ بلوچستان اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ یہ مطالبہ آئینی، جمہوری اور دیرینہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور

انہوں نے مزید کہا کہ برابر نمائندگی کے بغیر بلوچستان کے عوام قومی سطح پر اپنے مسائل مؤثر انداز میں اجاگر نہیں کر سکتے۔

آئینی و سیاسی پہلو

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ قرارداد وفاقی سطح پر آئینی بحث کو جنم دے سکتی ہے، کیونکہ نشستوں میں ردوبدل کے لیے مردم شماری اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ تاہم بلوچستان کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وسیع رقبہ، آبادی کا پھیلاؤ اور سیکیورٹی چیلنجز ایسے عوامل ہیں جنہیں نمائندگی کے تعین میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

پی ٹی آئی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے، وجہ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟