بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے وزیر برائے توانائی و معدنی وسائل، اقبال حسن محمود کے حالیہ بیانات کی شدید مذمت کی ہے، جن میں انہوں نے نعرہ ‘انقلاب زندہ باد’ پر سوال اٹھایا تھا۔
ہفتے کو جاری بیان میں جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور مرکزی پبلسٹی و میڈیا کے سربراہ احسن اللہ محبوب زبیر نے وزیر کے بیانات کو ‘نا مناسب’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی، لسانی اور عوامی حقیقتوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف جماعت اسلامی بنگلہ دیش و اتحادیوں کا احتجاج
زبیر نے کہا کہ اگرچہ لفظ ‘انقلاب’ عربی سے ماخوذ ہے، لیکن اسے جنوبی ایشیا میں آزادی، جمہوری حقوق اور آمریت کے خلاف تحریکوں میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘زبان عوامی استعمال کے ذریعے ارتقا پذیر ہوتی ہے اور اسے محدود تعبیرات تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔’
انہوں نے مزید کہا کہ بنگالی زبان سمیت کئی زبانوں نے عربی اور فارسی جیسے ذرائع سے الفاظ اپنائے ہیں، اور کسی اظہار کو صرف ماخذ کے لحاظ سے ‘اینٹی-بنگلا’ قرار دینا درست نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش نے بھارتی اسپائس جیٹ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا
زبیر نے نعرے کو کسی ایک سیاسی گروہ تک محدود کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ‘انقلاب زندہ باد’ ظلم و استبداد کے خلاف ایک وسیع تر اپیل ہے۔ انہوں نے وزیر کے موقف پر بھی سوال اٹھایا اور کرپشن، مہنگائی اور توانائی کے شعبے میں مبینہ بدعنوانیوں جیسے مسائل کی جانب اشارہ کیا۔
جماعت اسلامی نے وزیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بیانات واپس لیں اور سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی کہ زبان اور علامتوں پر مبنی اختلافات پیدا کرنے والی تقاریر سے گریز کریں۔













