پاکستان نے افغانستان میں سرحدی دہشتگردی میں ملوث شدت پسندوں کے خلاف ہدفی فضائی کارروائی کر کے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ افغان قومی افواج کو نشانہ نہیں بنایا گیا، بلکہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستان میں سرحد پار حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
کارروائی کے دوران پکتیکا، خوست اور ننگرہار میں 3 مخصوص مقامات پر اہداف کیخلاف فضائی حملے کیے گئے، جن کا مقصد مخصوص دہشتگرد تھے اور نتائج فیصلہ کن رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں جوابی کارروائی، سرحدی علاقوں میں 7 دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا
اس کارروائی میں 70 سے زائد فتنہ الخوارج شدت پسند ہلاک ہوئے اور متعدد درمیانی سطح کے کمانڈرز بھی ہلاک کیے گئے، جس سے آپریشن کی واضح فتح حاصل ہوئی۔
پاکستان نے کہا ہے کہ شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، اور حالانکہ دہشت گردوں نے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، پاک فضائیہ کے حملے تیر بہ ہدف اور کنٹرولڈ رہے، ننگرہار پولیس کے نقصان کے حوالے سے دعوے جھوٹ پر مبنی اور ہم آہنگ پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔
پاک فوج نے واضح کیا کہ افغان حکومت یا کسی ریاستی اثاثے کو ہدف نہیں بنایا گیا اور کسی بھی دشمنانہ ردعمل یا کشیدگی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کے تحت افغانستان کو جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان نے اس سے قبل افغان حکام کے ساتھ قابل عمل انٹیلیجنس بھی شیئر کی ہے، لیکن غیر فعال رویے کی وجہ سے فیصلہ کن دفاعی کارروائی کرنا پڑی۔
اس حالیہ کارروائی کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی اور اس کے متعلقہ پروپیگنڈہ اکاؤنٹس خاموش ہیں، کیونکہ ان کے درمیانی کمانڈ ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حملہ شدہ علاقوں میں رابطہ منقطع اور سگنل جیم کرنے کے اقدامات سے شدت پسندوں کے نقصانات چھپانے کی کوشش کی گئی۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے افغانستان، بنوں حملے کے تانے بانے بھی کابل سے جا ملے
پاک فوج نے واضح کیا کہ سرحد پار دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی اور ڈیورنڈ لائن کے پار موجود محفوظ ٹھکانے ختم کیے جائیں گے۔
پاکستان نے زور دیا کہ وہ افغان علاقے سے پیدا ہونے والے کسی بھی خطرے کے خلاف کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔












