پاکستان سپر لیگ یعنی پی ایس ایل میں حالیہ رجسٹرڈ ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز کے 90 فیصد حصص نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
ٹیم کی مالک کمپنی OZ گروپ مالی مشکلات کا سامنا کر رہا تھا کیونکہ اس کے سابق شراکت داروں کے انخلا کے بعد اس کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا مشکل ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11 شروع ہونے سے پہلے سیالکوٹ اسٹالینز میں شیئرز پر لڑائی، 76 فیصد کےمالک نے پارٹنر کو کٹہرے میں کھڑا کردیا
دریں اثنا، وسیم اکرم نے تصدیق کی کہ وہ اب سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر نہیں ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، گزشتہ ماہ پی سی بی نے 7ویں پی ایس ایل ٹیم کو کنگز مین کو 1.75 ارب روپے میں جبکہ 8ویں ٹیم OZ گروپ کو 1.85 ارب روپے میں بیچی گئی۔
🚨 OZ GROUP HAS LOST THE OWNERSHIP OF SIALKOT STALLIONZ
-new party agreed to buy 90% shares & will end the control of OZ Group. pic.twitter.com/2d3IO8g3wU
— Cricket Room (@cricketroom_) February 22, 2026
امریکی کمپنی نے اپنی ادائیگیاں بروقت کیں، لیکن آسٹریلوی گروپ کو مالی مشکلات کا سامنا رہا۔
ذرائع کے مطابق، بولی کے دوران جب قیمتیں بڑھتی گئیں، تو OZ گروپ کے شراکت دار فکرمند ہو گئے۔
بولی کے دوران وقفہ لیا گیا تاکہ دونوں شراکت داروں کو فون پر صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: سیالکوٹ اسٹیلینز نے پی ایس ایل 11 کے لیے اسٹیو اسمتھ کو سائن کرلیا
بولی جیتنے کے بعد، دونوں شراکت دارایک سیالکوٹ اور دوسرا سوئٹزرلینڈ سے نے زیادہ قیمت کا حوالہ دیتے ہوئے دستبرداری اختیار کر لی۔
OZ گروپ نے بینک گارنٹی جمع کرائی، مگر ادائیگی میں دیر کی، جس سے معاہدے کے ختم ہونے کا خطرہ ٹل گیا۔
تاہم، فرنچائز فیس کی ادائیگی میں مشکلات جاری رہیں، اس صورتحال میں 75 فیصد حصص نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیں: سابق آسٹریلوی کپتان ٹم پین پی ایس ایل فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کے ہیڈ کوچ مقرر
لاہور اور کراچی میں پریس کانفرنس بھی کی گئی، لیکن نئی پارٹی، محمد شاہد، کی طرف سے کوئی ادائیگی وصول نہیں ہوئی۔
جب فنڈز نہیں آئے تو نیا شراکت دار تلاش کرنے کا عمل شروع ہوا، ابتدائی طور پر جس پارٹی سے رابطہ کیا گیا تھا، اس نے بعد میں سنگین الزامات بھی عائد کیے۔
اس صورتحال میں پی سی بی کے پاس بینک گارنٹی کی رقم حاصل کر کے معاہدہ منسوخ کرنے کا آپشن تھا، لیکن درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل کی نئی فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کا آفیشل لوگو جاری
ذرائع کے مطابق، بولی میں ناکام رہنے والی ایک پارٹی نے اب 90 فیصد سے زائد حصص خریدنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے OZ گروپ کا انتظامی امور پر کنٹرول ختم ہو جائے گا۔
قواعد کے مطابق، 3 سال سے پہلے 100 فیصد حصص منتقل نہیں کیے جا سکتے۔ نئی پارٹی اس معاملے میں اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر شامل ہوگی۔
مزید ذرائع نے بتایا کہ جب پی سی بی نے اپنی تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ ایک مالک پہلے دیوالیہ ہو چکا تھا۔
تاہم، نئی پارٹی مالی طور پر مستحکم نظر آتی ہے اور اگلے ہفتے اعلان متوقع ہے۔
دوسری جانب، جس کمپنی نے 75 فیصد حصص خریدنے کا دعویٰ کیا تھا، اس نے وسیم اکرم کو فرنچائز صدر مقرر کیا تھا، لیکن وہ اب اس عہدے پر نہیں ہیں۔
جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا، صرف فون پر بات چیت ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ پریس کانفرنس کے دوران وسیم اکرم کا ویڈیو بیان بھی دکھایا گیا۔
کچھ حلقوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں 10 فیصد شیئرزکی پیشکش بھی کی گئی تھی، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔














