کامل خان نے سیالکوٹ اسٹالینز سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ انتظامیہ کے بعض فیصلوں کے بعد غور و فکر کے نتیجے میں کیا گیا۔
کامل خان نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان کرکٹ سے گہری محبت کے باعث انہوں نے سیالکوٹ اسٹالینز کی قیادت کی ٹیم میں شمولیت اختیار کی اور خلوصِ نیت کے ساتھ کرکٹ امور کی ذمہ داری سنبھالی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختصر مدت میں ٹیم نے نمایاں پیش رفت کی، جس میں آسٹریلوی کرکٹر سٹیو سمتھ کو ٹیم کا حصہ بنانا، ٹم پین کی تقرری اور عالمی اسپورٹس برانڈ نیو بیلنس کے ساتھ شراکت داری شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے سابق آسٹریلوی کپتان ٹم پین پی ایس ایل فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کے ہیڈ کوچ مقرر
کامل خان کے مطابق اگرچہ انہوں نے یہ فیصلہ کچھ وقت قبل کر لیا تھا، تاہم وہ چاہتے تھے کہ باضابطہ طور پر علیحدگی سے قبل سیالکوٹ اسٹالینز محفوظ ہاتھوں میں ہو۔
اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے ٹیم سے وابستہ تمام افراد کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ اسٹالینز کے ساتھ ان کا سفر اب اختتام کو پہنچ چکا ہے۔
Out of my deep love for Pakistan cricket, I joined the leadership team of Sialkot Stallionz, assuming responsibility for the cricketing side with sincerity. In a short time, we made significant progress, including securing Steve Smith, appointing Tim Paine and partnering with New…
— kamil khan (@13kamilkhan) February 22, 2026
وسیم اکرم بھی علیحدہ ہوگئے
واضح رہے کہ سابق قومی کپتان وسیم اکرم پہلے ہی سیالکوٹ اسٹالینز سے علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں۔ جس کمپنی نے فرنچائز کے 75 فیصد حصص خریدنے کا دعویٰ کیا تھا، اس نے انہیں فرنچائز صدر مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم وسیم اکرم نے تصدیق کی کہ کوئی باضابطہ معاہدہ طے نہیں پایا تھا اور صرف فون پر بات چیت ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ پریس کانفرنس کے دوران وسیم اکرم کا ویڈیو بیان بھی دکھایا گیا تھا، جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے انہیں 10 فیصد شیئرز کی پیشکش کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سیالکوٹ اسٹالینز کے 90 فیصد حصص نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر اتفاق
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں حال ہی میں رجسٹرڈ ہونے والی ٹیم سیالکوٹ سٹالینز کے 90 فیصد سے زائد حصص نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے بعد موجودہ مالک کمپنی OZ Group کا انتظامی کنٹرول عملاً ختم ہو جائے گا۔
ذرائع کے مطابق OZ گروپ کو مالی مشکلات کا سامنا تھا، کیونکہ سابق شراکت داروں کے انخلا کے بعد ذمہ داریوں کو پورا کرنا دشوار ہو گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ساتویں پی ایس ایل ٹیم کنگز مین کو 1.75 ارب روپے جبکہ آٹھویں ٹیم OZ گروپ کو 1.85 ارب روپے میں فروخت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے پی ایس ایل 11 شروع ہونے سے پہلے سیالکوٹ اسٹالینز میں شیئرز پر لڑائی، 76 فیصد کےمالک نے پارٹنر کو کٹہرے میں کھڑا کردیا
اطلاعات کے مطابق ایک امریکی کمپنی نے اپنی ادائیگیاں بروقت مکمل کیں، تاہم آسٹریلوی گروپ کو مالی مسائل کا سامنا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بولی کے دوران قیمتیں بڑھنے پر OZ گروپ کے شراکت دار تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اس دوران وقفہ بھی لیا گیا تاکہ دونوں شراکت داروں کو فون پر صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔
بولی جیتنے کے بعد ایک شراکت دار، جو سیالکوٹ سے تعلق رکھتا تھا، اور دوسرا سوئٹزرلینڈ میں مقیم تھا، زیادہ قیمت کا حوالہ دیتے ہوئے دستبردار ہو گئے۔ اگرچہ OZ گروپ نے بینک گارنٹی جمع کرا دی تھی، تاہم ادائیگی میں تاخیر کے باعث معاہدہ منسوخ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، جو بعد ازاں ٹل گیا۔
ذرائع کے مطابق فرنچائز فیس کی ادائیگی میں مسلسل مشکلات کے باعث ابتدا میں 75 فیصد حصص نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ لاہور اور کراچی میں اس حوالے سے پریس کانفرنس بھی کی گئی، تاہم نئی پارٹی کے نمائندے محمد شاہد کی جانب سے کوئی ادائیگی موصول نہ ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیے پی ایس ایل: ٹیم سیالکوٹ کے 90 فیصد شیئرز نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر اتفاق
فنڈز موصول نہ ہونے پر نئے شراکت دار کی تلاش دوبارہ شروع کی گئی۔ ابتدائی طور پر جس پارٹی سے رابطہ کیا گیا تھا، اس نے بعد ازاں سنگین الزامات بھی عائد کیے۔ اس تمام صورتحال میں پی سی بی کے پاس بینک گارنٹی ضبط کر کے معاہدہ منسوخ کرنے کا اختیار موجود تھا، تاہم ذرائع کے مطابق بورڈ نے درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔
اب اطلاعات ہیں کہ بولی میں ناکام رہنے والی ایک پارٹی نے 90 فیصد سے زائد حصص خریدنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ قواعد کے مطابق 3 سال مکمل ہونے سے قبل 100 فیصد حصص منتقل نہیں کیے جا سکتے، لہٰذا نئی پارٹی اس وقت اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر شامل ہوگی۔
مزید ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک مالک ماضی میں دیوالیہ ہو چکا تھا۔ تاہم نئی ممکنہ خریدار پارٹی مالی طور پر مستحکم دکھائی دیتی ہے اور اس حوالے سے باضابطہ اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے۔














