سپریم کورٹ میں قتل کے ایک مجرم کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران معزز جج صاحبان نے جیلوں میں طبی سہولیات کی صورتحال پر اہم ریمارکس دیے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل دل کے عارضے میں مبتلا ہے اور اسے فوری طبی توجہ کی ضرورت ہے۔ وکیل کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی رپورٹ میں بھی ملزم کے آپریشن کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: افواہوں میں حقیقت نہیں، عمران خان کی ایک آنکھ 70 فیصد جبکہ دوسری مکمل ٹھیک ہے، اعظم نذیر تارڑ
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جیل میں مناسب علاج میسر نہیں اور وہاں ڈسپرین کے علاوہ کوئی مؤثر دوا دستیاب نہیں۔
اس موقع پر جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ جیل میں تو آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے۔ عدالت نے جیلوں میں طبی سہولیات پر تشویش کا اظہار کیا۔
دوران سماعت جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ ملزم اس وقت کس جیل میں ہے؟ وکیل نے بتایا کہ ملزم مردان جیل میں قید ہے۔ جس پر جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ مردان میں ہی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:عمران خان کی آنکھ کا علاج جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، عطاتارڑ
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مردان میں امراضِ قلب کا خصوصی اسپتال موجود نہیں، لہٰذا میڈیکل بورڈ پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں تشکیل دیا جائے۔
عدالت نے پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے 9 مارچ تک بورڈ کی رپورٹ طلب کرلی۔ مزید سماعت رپورٹ موصول ہونے تک ملتوی کردی گئی۔














