میکسیکو کی سکیورٹی فورسز نے ایک بڑے اور خونریز آپریشن میں ملک کے طاقتور ترین منشیات کارٹل کے سربراہ نیمیسو اوسیگیرا سروانتس المعروف ’ایل مینچو‘ کو ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں 70 سے زائد افراد مارے گئے، جن میں سکیورٹی اہلکار، مشتبہ کارٹل ارکان اور دیگر افراد شامل ہیں۔
’ایل مینچو جالیسکو نیو جنریشن کارٹل (CJNG) کا سربراہ تھا اور امریکا کو بھی مطلوب ‘ ترین افراد میں شامل تھا۔
برسوں کی تلاش کے بعد کامیابی
میکسیکو اور امریکا دونوں کئی برسوں سے ’ایل مینچو‘ کی تلاش میں تھے۔ اس کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور منظم جرائم کے متعدد مقدمات درج تھے۔
میکسیکو کے وزیر دفاع جنرل ریکارڈو ٹریویلا کے مطابق اس بار کامیابی ایک غیر متوقع ذریعے سے ملی، اس کی ایک رومانوی ساتھی (محبوبہ) کی نگرانی سے۔
یہ بھی پڑھیے میکسیکو: امریکی مدد سے فوجی آپریشن، بدنام زمانہ کارٹیل سربراہ ’ایل منچو‘ ہلاک
فوجی تفتیش کاروں نے اس خاتون کے ایک قریبی ساتھی پر نظر رکھی، جو اسے جمعے کے روز جالیسکو کے علاقے تاپالپا لے گیا، جہاں اس کی ’ایل مینچو‘ سے ملاقات طے تھی۔
حکام کے مطابق مقام کی حتمی تصدیق امریکی خفیہ اداروں کی اہم معلومات سے ہوئی۔
خصوصی فورسز کی پیش قدمی
خاتون رات گزارنے کے بعد جب واپس روانہ ہوئی تو فورسز نے تصدیق کر لی کہ کارٹل سربراہ سکیورٹی گارڈز کے ہمراہ اسی علاقے میں موجود ہے۔
چنانچہ اتوار کی علی الصبح میکسیکو کی فوج اور نیشنل گارڈ نے زمینی محاصرہ قائم کیا، جبکہ 6 ہیلی کاپٹر اور خصوصی دستے الرٹ رہے۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بوم کو بھی آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ اطلاع دی جاتی رہی۔
جنرل ٹریویلا کے مطابق جرائم پیشہ عناصر نے انتہائی پرتشدد مزاحمت کی۔ 8 مسلح افراد موقع پر مارے گئے۔ ’ایل مینچو‘ اور اس کے 2 محافظ زخمی ہوئے۔ بعد ازاں تینوں کو حراست میں لے کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کیا گیا، مگر وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ اس آپریشن میں مجموعی طور پر 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
جھڑپ کے دوران ایک فوجی ہیلی کاپٹر کو گولی لگنے سے ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی جبکہ 3 فوجی زخمی ہوئے۔
کارروائی کے دوران 2 راکٹ لانچر سمیت بھاری ہتھیار برآمد کیے گئے۔ حکام کے مطابق ان میں سے ایک راکٹ لانچر وہی ماڈل تھا جو 2015 میں کارٹل نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر گرانے کے لیے استعمال کیا تھا۔
’ایل ٹولی‘ بھی مارا گیا
حکام کے مطابق کارٹل کے مالیاتی اور لاجسٹک نیٹ ورک کا ذمہ دار شخص، جسے ’ایل ٹولی‘ کہا جاتا تھا، فوج کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا۔ اس کے قبضے سے طویل اور مختصر رینج کا اسلحہ اور تقریباً 14 لاکھ ڈالر مالیت کی امریکی اور میکسیکن کرنسی برآمد ہوئی۔
ریاست جالیسکو میں بدترین تشدد
کارٹل کے سربراہ ’ایل مینچو‘ کی ہلاکت کے بعد ریاست جالیسکو میں سب سے زیادہ تشدد دیکھنے میں آیا جہاں 25 نیشنل گارڈ اہلکار، ایک جیل افسر، پراسیکیوٹر آفس کا ایک ملازم، ایک خاتون شہری، اور 30 مشتبہ جرائم پیشہ افراد مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیے میکسیکو میں جین زی کا ملک گیر احتجاج، بدامنی اور بدعنوانی کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر
پڑوسی ریاست میشوا کان میں مزید 4 مسلح افراد ہلاک اور 15 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
کارٹل کی ممکنہ انتقامی کارروائیوں سے بچنے کے لیے ’ایل مینچو‘ اور اس کے محافظوں کی لاشیں جالیسکو کے بجائے براہِ راست میکسیکو سٹی منتقل کی گئیں۔
کارٹل کو بڑا دھچکا، مگر خطرہ باقی
حکام کے مطابق اگرچہ کارٹل کو بڑا دھچکا لگا ہے، لیکن مختلف ریاستوں میں پرتشدد ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ایل مینچو‘ کی ہلاکت منشیات کے عالمی نیٹ ورک کے خلاف ایک بڑی کامیابی ضرور ہے، مگر اس کے اثرات اور ممکنہ طاقت کے خلا کے نتائج آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔













