ڈاکٹر یاسمین راشد نےانتخابات میں نواز شریف کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل نے درخواست کو تکنیکی بنیادوں پر خارج کیا اور حقائق و قانون کا درست جائزہ نہیں لیا۔ درخواست گزار کے مطابق ٹربیونل کا فیصلہ آئینی اور قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: این اے 130 کا انتخابی تنازع ختم، نواز شریف کے خلاف یاسمین راشد کی درخواست خارج
اپیل میں کہا گیا ہے کہ فارم 45 میں مبینہ تبدیلی الیکشن کی شفافیت کے آئینی تقاضے کے خلاف ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ حتمی نتائج مرتب کرنے کے لیے امیدواروں کو نوٹس جاری کرنا قانونی تقاضا ہے، تاہم نتائج مرتب کرتے وقت کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا، جو کہ انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں کامیاب قرار دیا جائے۔
سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شفاف انتخابات ہر امیدوار کا آئینی حق ہے اور اس حق کی حفاظت عدالت کی ذمہ داری ہے۔














