بنگلہ دیش کی حکومت نے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (ایڈیشنل آئی جی پی) محمد علی حسین فقیـر کو ملک کا نیا انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) مقرر کر دیا ہے۔ تقرری کا اعلان منگل کے روز وزارتِ داخلہ بنگلہ دیش کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا گیا۔
محمد علی حسین فقیـر بنگلہ دیش سول سروس (پولیس) کے 15ویں بیچ کے افسر ہیں۔ ان کے کیریئر میں نشیب و فراز آتے رہے، جن میں برطرفی اور بعد ازاں لازمی ریٹائرمنٹ بھی شامل ہے، جسے انہوں نے ماضی میں سیاسی وجوہات سے منسوب کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش حکومت نے 9 سیکریٹریز کی کنٹریکٹ تقرریاں منسوخ کردیں
5 اگست 2024 کو طلبا کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد انہیں قانونی کارروائی کے ذریعے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کے عہدے پر بحال کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں سپرنمیری بنیاد پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
ضلع باگرہٹ سے تعلق رکھنے والے علی حسین فقیـر نے 15ویں بی سی ایس امتحان کے ذریعے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) کی حیثیت سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیا۔ 1997 میں شیخ حسینہ کے پہلے دورِ حکومت کے دوران انہیں برطرف کیا گیا، تاہم بعد میں بی این پی۔جماعت اتحاد کے برسرِ اقتدار آنے پر وہ عدالتی کارروائی کے ذریعے بحال ہو گئے۔
یہ بھی پؑڑھیے: بنگلہ دیش پولیس چیف کا نوٹس، انتہا پسندی، بھتہ خوری اور منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن
اپنے کیریئر کے دوران وہ مختلف اضلاع میں ایس پی کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ 2008 میں وہ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے اترا ڈویژن میں ڈپٹی کمشنر تعینات رہے۔ بعد ازاں انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن میں بھی خدمات سرانجام دیں جہاں ان کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
2022 میں عوامی لیگ کی حکومت کے دوران انہیں لازمی ریٹائرمنٹ پر بھیج دیا گیا تھا۔
تازہ تقرری کے بعد علی حسین فقیـر بنگلہ دیش پولیس کے سربراہ کا عہدہ ایسے وقت سنبھال رہے ہیں جب ملک حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد ادارہ جاتی اور انتظامی اصلاحات کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔














