بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی 6 اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 2 مقدمات میں ضمانت منظور کرلی گئی۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں ایڈیشنل جج افضل مجوکا نے دونوں کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
مزید پڑھیں: عمران خان رہائی فورس کے خدوخال پر غور ہوگا، پارٹی کسی ملیشیا پر یقین نہیں رکھتی، بیرسٹر گوہر
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 9 مئی کے واقعے، اقدام قتل، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور توشہ خانہ کی جعلی رسیدوں کے مقدمات درج ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف بھی توشہ خانہ کی جعلی رسیدوں کا کیس تھانہ کوہسار میں زیر سماعت ہے۔
پراسیکوشن کی جانب سے راجا نوید حسین کیانی، مظہر بشیر اور طاہر کاظم عدالت میں پیش ہوئے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی مخالفت کی۔
اسٹیٹ پراسیکیوٹر نے کہاکہ دونوں کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور وہ ضمانت کے مستحق نہیں، لہٰذا درخواستیں مسترد کی جائیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے۔
انہوں نے کہاکہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ضمانت کی درخواست میں اتنی تاخیر ہوئی، جبکہ ریاست نے 63 مرتبہ معاملے میں التوا دیا، 30 موقعوں پر عدالت نے جیل حکام کو پیش ہونے کا حکم دیا مگر عملدرآمد نہیں ہوا، اور پانچ مرتبہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو شوکاز نوٹس جاری ہوئے۔
بیرسٹر سلمان نے مزید کہاکہ کچھ مقدمات صرف خوفزدہ کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، جن میں فرد جرم عائد نہیں ہوئی، اور موجودہ مقدمات بھی ایسے ہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ 5 اگست 2023 کو عمران خان گرفتار ہوئے تھے، مگر 2 سال تک عدالت سے کسی مقدمے میں گرفتاری کی درخواست نہیں کی گئی، تفتیش مکمل نہیں ہوئی اور چالان بھی پیش نہیں ہوا۔
عدالت نے پراسیکوشن سے استفسار کیاکہ کیا توشہ خانہ کی جعلی رسیدیں برآمد ہوئی ہیں، جس پر پراسیکوشن نے کہا کہ رسیدیں برآمد نہیں ہوئیں اور یہ معاملہ میڈیا پر ظاہر کیا جاتا رہا۔
عدالت نے پراسیکوشن کے غیر تسلی بخش جوابات کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانتیں منظور کرلیں اور دونوں کو 50،50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔
مزید پڑھیں: بشریٰ بی بی سے فیملی کی ملاقات کرا دی گئی، 26 نومبر کے مقدمے میں ضمانت بھی منظور
دوسری جانب بشریٰ بی بی کو ایک اور مقدمے میں بھی ریلیف مل گیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں 26 نومبر کو پی ٹی آئی احتجاج کیس کی سماعت ایڈیشنل جج عامر ضیا نے کی۔
بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت نے 50 ہزار روپے کے مچلکے کے عوض ان کی ضمانت منظور کردی۔












