عمران خان رہائی فورس کے خدوخال پر غور ہوگا، پارٹی کسی ملیشیا پر یقین نہیں رکھتی، بیرسٹر گوہر

منگل 24 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان رہائی فورس کے معاملے پر پارٹی میں مشاورت جاری ہے اور کوئی بھی اقدام غیر قانونی یا غیر آئینی نہیں ہوگا۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جماعت سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، مسلح کارروائی یا ملیشیا رکھنے پر نہیں۔ فورس کے خدوخال پر پارٹی میں غور کیا جائے گا اور ہر قدم آئین و قانون کے مطابق ہوگا۔

مزید پڑھیں: ’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

انہوں نے کہاکہ اگر وہ پارٹی چیئرمین نہ ہوتے تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی کوششوں پر بہت کچھ کہتا۔

بیرسٹر گوہر نے کہاکہ عمران خان کے دوسرے طبی معائنے سے متعلق انہیں پہلے سے اطلاع نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق حکومت نے صرف تاریخ بتائی تھی، مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ رات کو اچانک معائنہ کیا جائے گا۔ بعد میں اطلاع ملی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ مکمل ہو چکا ہے اور انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیاکہ عمران خان کا علاج ان کے اہل خانہ اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کرایا جائے۔

انہوں نے کہاکہ وہ ہمیشہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ آواز بلند کریں لیکن زبان محتاط رکھیں، کیونکہ تمام فریقین کو ایک دوسرے کا لحاظ کرنا چاہیے تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج اور ملاقات میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی جواز نہیں۔ اگر علاج کے لیے کسی ایک شخص کو بلایا جائے تو دوسرے کو اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ ملک پہلے ہی دہشتگردی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے دوچار ہے، اس لیے مزید بحران پیدا کرنے کے بجائے بہتری کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔

ان کے بقول جماعت ہر آئینی فورم پارلیمنٹ، عدالتیں یا عوامی سطح پر آواز اٹھائے گی، مگر کوئی غیر جمہوری کام نہیں کرے گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیاکہ اگر وہ پارٹی چیئرمین نہ ہوتے تو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوششوں پر بہت کچھ کہتے، لیکن اب ترجیح حالات کو بہتر بنانا ہے اور جو کچھ ان کے بس میں ہے وہ ایمانداری سے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کوشش کی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا علاج ان کے اہل خانہ اور ذاتی معالج کی موجودگی میں کرایا جائے اور بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کی بھی کوشش کی گئی، کچھ غلطیاں ہوسکتی ہیں جو ہم سے یا ان سے ہوئی ہوں۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کی مہم کیا رمضان میں چھٹی پر چلی گئی؟

بیرسٹر گوہر نے مزید کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سیاست سے دور نہیں ہو سکتے، وہ ملکی سیاست کے اہم کردار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ علیمہ خان نے انہیں کبھی عہدے سے ہٹانے یا خود پارٹی چیئرپرسن بننے کی بات نہیں کی، یہ عہدہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی امانت ہے اور جب وہ کہیں گے چھوڑ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم