روس واحد ملک ہے جس نے افغان طالبان حکومت کو تسلیم کر رکھا ہے ۔ چین نے طالبان کے مقرر کردہ سفیر کی اسناد قبول کی ہیں لیکن باضابطہ طور پر حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ پاکستان ، ایران ، قطر ، ازبکستان ، ترکمانستان ، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کی بھی چین سے ملتی جلتی پوزیشن ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے افغانستان کی صورتحال پر ایک رپورٹ اپنی آفیشل سائٹ پر شئر کی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بیس سے تئیس ہزار دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جنگجو موجود ہیں۔ داعش کے تین ہزار ، ٹی ٹی پی کے پانچ سے سات ہزار ، القاعدہ کے چار سو سے پندرہ سو تک، چین کے مسلمان صوبے شنجیانگ سے تعلق رکھنے والی ایسٹ ترکستان اسلامی موومنٹ کے 300 سے 1200، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور اسلامک پارٹی آف ترکستان کے 150 سے 500 ، جماعت انصار اللہ کے ڈیڑھ سے 250 فائٹر افغانستان میں موجود ہیں۔
افغانستان میں موجود ان سارے مسلح گروپوں میں داعش واحد گروپ ہے جو افغان طالبان کے خلاف ہے۔ داعش کے سلیپر سیل اور ٹریننگ سنٹر مشرقی، جنوب مشرقی اور شمالی افغانستان میں ہیں۔ داعش افغان طالبان کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ دور دراز علاقوں میں بھی کسی علاقے پر قبضہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ داعش کی کاروائیاں افغان طالبان کے امن اور کنٹرول کے دعووں کو چیلنج کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک امریکا پارٹنر شپ، نئے امکانات دھندلا نہ جائیں
افغان طالبان نے داعش سے درپیش خطرات کی وجہ سے اس کے خلاف موثر کاروائیاں کی ہیں ۔ متشدد سلفی ہارڈ لائنر سوچ رکھنے والے لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور ایسے سلفی مدارس جو شدت پسندی پھیلاتے ہیں ان کو بند کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پچھلے 18 ماہ میں داعش کی کاروائیوں میں واضح کمی آئی ہے۔ اس عرصے میں داعش گنتی کی چند بڑی کاروائیاں کر سکی ہے۔ بغلان میں علما پر حملہ، تخار میں چینی باشندوں کو نشانہ بنانا اور کندوز میں حملے کے علاوہ کابل میں چینی ریستوران کو نشانہ بنانا داعش کی بڑی کاروائیاں شمار ہوئی ہیں۔
القاعدہ افغانستان کو صرف ٹریننگ کیمپ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس کے کیمپ نیٹ ورکنگ اور انفراسٹرکچر غزنی، لغمان، کنہڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور اروزگان میں ہیں۔ ٹی ٹی پی جنوب مشرقی اور مشرقی افغانستان میں موجود ہے۔ یہ صرف پاکستان کو نشانہ بناتی ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔
احمد مسعود کا نیشنل فرنٹ اور یاسین ضیا کا افغانستان فریڈم فرنٹ افغان طالبان مخالف مسلح گروپ ہیں۔ یہ سرپرائز اٹیک تک محدود رہتے ہیں ۔ این آر ایف کے مسلح فائٹر پنجشیر، بدخشاں اور بغلان میں موجود ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کی رپورٹ میں افغانستان میں پوست کی کاشت میں 20 فیصد اور پیداوار میں 32 فیصد کمی کا بھی اعتراف کیا گیا ہے ۔ سینتھیٹک منشیات کی فروخت میں 50 فیصد اضافہ بھی نوٹ کیا گیا ہے۔
روس نے افغان طالبان حکومت کو تسلیم کر کے ایک بولڈ قدم اٹھایا تھا۔ روسی وزارت خارجہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ روس افغانستان میں موجود مسلح گروپوں کی وجہ سے پریشان ہے۔ امریکی سینیٹ کی فارن افئر کمیٹی نے ’نو ٹیکس ڈالرز فار ٹیررسٹس ایکٹ‘ کی منظوری دی ہے۔ اس بل کا مقصد امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو براہ راست یا بالواسطہ افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں تک پہنچنے سے روکنا ہے۔
مزید پڑھیے: لاہور نے کر دکھایا، اب پی پی کراچی میں رونق لگا کر دکھائے
افغان طالبان کی کابل واپسی کے بعد اب تک 10.72 ارب ڈالر افغانستان کو امداد کی صورت میں ملے ہیں۔ اس میں 3.83 ارب ڈالر امریکی ٹیکس دہندگان کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔ امریکی ادارہ سپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن اور دوسرے واچ ڈاگ اداروں کا اندازہ ہے کہ ان موصول شدہ رقوم کا 70 فیصد ٹیکس، انتظامی کنٹرول اور دورانِ منتقلی طالبان کے زیر کنٹرول انتظام کو فائدہ پہنچاتا رہا۔
4 فروری کو بیجنگ میں طالبان سفیر بلال کریمی سے چین کی وزارتِ خارجہ کے ایشیائی امور کے شعبے کے سربراہ لیو جِن سونگ اور افغانستان کے لیے چین کے خصوصی نمائندے یو شیا ویونگ نے ملاقات کی۔ 5 فروری کو ماسکو میں افغان طالبان کے سفیر مولوی گل حسن حسن نے چین کے سفیر سے ملاقات ژانگ ہانہوئی سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقاتیں افغانستان میں مسلح گروپوں کی موجودگی ۔ ان سے متعلق ہمسایہ ملکوں میں پائے جانے والے خدشات کے بارے میں ہی تھیں۔
مزید پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں
افغانستان میں موجود مسلح گروپوں کے حوالے سے دنیا کو تشویش ہے ۔ پاکستان نے 22 فروری کو افغانستان میں حافظ گل بہادر گروپ، ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور داعش خراسان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ پاکستان کی اس کارروائی کے خلاف صرف ایک مذمتی بیان انڈیا سے آیا۔ اس اکلوتے بیان کی وجہ سب کو سمجھ آتی ہے۔ بیان نہ آنے کی وجہ جاننی ہو تو امریکی سینیٹ کمیٹی سے منظور شدہ بل، چین کے سفارتی رابطے اور روسی وزارت خارجہ کی رپورٹ سب بتا رہی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













